وزیر دفاع خواجہ آصف افغانستان کے دورہ پر کابل پہنچ گئے۔ وزیر دفاع کے ہمراہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم بھی تھے۔
دورے کے دوران خواجہ آصف کی سربراہی میں پاکستانی وفد کی افغانستان کے نائب وزیراعظم ملاغنی برادر اور وزیردفاع ملا یعقوب سے ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر ڈی جی آئی ایس آئی ندیم انجم، سیکریٹری خارجہ اسد مجید خان اور افغانستان کے لیے پاکستان کی خصوصی نمائندے محمد صادق بھی موجود تھے۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، طورخم اور چمن بارڈر پر تجارت کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دفتر خارجہ کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیر دفاع کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کا وفد کابل میں ہے تاکہ افغانستان میں عبوری حکومت کے ساتھ سیکیورٹی سے متعلقہ مسائل پر تبادلہ خیال کیا جاسکے جس میں انسداد دہشت گردی کے اقدامات بھی شامل ہیں۔
A high-ranking delegation led by the Minister for Defence is in Kabul today to meet with officials of the Afghan Interim Government to discuss security related matters including counter terrorism measures.
— Spokesperson 🇵🇰 MoFA (@ForeignOfficePk) February 22, 2023
افغانستان کے نائب وزیراعظم عبدالغنی برادر کے دفتر نےوفد سے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے تصاویر اور ویڈیوز بھی جاری کردیں۔
1/5: Mullah Abdul Ghani Baradar Akhund, the Deputy Prime Minister for Economic Affairs, met with the Pakistani Minister of Defense, leading a high-ranking delegation. The two parties discussed economic cooperation, regional connectivity, trade, and bilateral relations pic.twitter.com/a9BbikgNa5
— د ریاست الوزراء اقتصادي معاونیت (@FDPM_AFG) February 22, 2023
افغان وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ملا عبدالغنی برادر نے وفد کو کہا کہ پاکستان اور افغانستان ہمسایہ ممالک ہیں اور ان کے درمیان خوشگوار تعلقات ہونے چاہئیں۔ امارت اسلامی افغانستان پاکستان کے ساتھ تجارتی و معاشی تعلقات میں وسعت چاہتا ہے۔ اس قسم کے تعلقات دونوں ممالک کے مفاد میں ہیں۔
ملا برادر نے مزید کہا کہ سیاسی اور سیکیورٹی کے مسائل کا اثر تجارت اور معاشی معاملات پر نہیں پڑنا چاہیے اور اسے سیاسی اور سیکیورٹی کے مسائل سے علیحدہ رکھنا چاہیے۔
واضح رہے کہ گذشتہ دسمبر میں کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے ناظم الامور عبید الرحمن نظامانی پر ایک حملہ کیا گیا تھا جس میں وہ خود تو محفوظ رہے تاہم ان کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکار شدید زخمی ہو گیا تھا۔
جب کہ دسمبر ہی میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے چمن میں مبینہ طور پر افغان سکیورٹی فورسز کی فائرنگ میں متعدد پاکستانیوں مارے گئے جبکہ عام شہریوں کی املاک کو بھی نقصان پہنچا۔
پاکستان کی طرف سے فائرنگ کے اس واقعے کی نا صرف پر زور مذمت کی گئی تھی بلکہ اسلام آباد میں تعینات افغان ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کر کے پاکستان کا احتجاج بھی ریکارڈ کروایا گیا تھا۔
