امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک کی موجودہ صورت حال اسلامی نظام سے دوری اور حکمرانوں کی نااہلی، کرپشن اور بد انتظامی کی وجہ سے ہے۔
منصورہ میں مرکزی مجلس شوریٰ سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے سراج الحق کا کہنا تھا کہ گزشتہ 75برس میں آنے والے حکمرانوں کے فالٹ کی وجہ سے ملک ڈیفالٹ کی سطح کو چھو رہا ہے۔ پی ڈی ایم، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کی حکومت نے ماضی کی طرح اشرافیہ کے ان جرائم کو دہرایا جو کسی بھی ملک کے لیے تباہ کن ہوتے ہیں اور آج اسی کے منفی اثرات قومی معیشت اور سیاست پر نظر آتے ہیں۔
سراج الحق نے کہا کہ اس وقت تمام سیاسی پارٹیاں اقتدار میں ہیں اور یہی ملکی حالات کی خرابی کی ذمے دار ہیں۔ سیاسی جماعتوں نے سنجیدہ رویہ اختیار نہ کیا اور آپس میں انتخابی اصلاحات پر اتفاق رائے پیدا نہ کیا گیا تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ اداروں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان ہے جس کے نتیجے میں ٹوٹ پھوٹ بڑھتی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 ماہ میں ملکی حالات بد سے بدترین ہو چکے، جماعت اسلامی اللہ کا شکرادا کرتی ہے کہ وہ ملک اور قوم کی بہتری کے لیے تاریخ کی درست سمت پر کھڑی ہے۔جماعت اسلامی ایسی تبدیلی اور انقلاب کی متمنی ہے جس میں حکمران اور عام آدمی اللہ اور اس کے رسولؐ کے احکامات کے پابند ہوں۔ جماعت اسلامی دعوؤں، وعدوں اور کھوکھلے نعروں کی سیاست کے بجائے عمل پر یقین رکھتی ہے اور اقتدار میں آ کر ملک کو حقیقی معنوں میں ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔
واضح رہے کہ جماعت اسلامی کی مرکزی شوریٰ کا اجلاس 3 روز جاری رہے گا جس میں ملک بھر سے اراکین شوریٰ شریک ہیں۔ اجلاس میں سالانہ رپورٹس کا جائزہ اور منصوبہ عمل مرتب کیا جائے گااس کے علاوہ مختلف امور سے متعلق قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس اور کارکردگی کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔
سراج الحق نے کہا کہ ملک میں جاری بدترین مہنگائی نے لوگوں کو فاقوں پر مجبور کر دیا ہے۔ یوٹیلٹی اسٹورز پر غیر معیاری اشیا اور بے تحاشا قیمتوں میں اضافہ کے باعث عوام پریشان ہیں۔ سفید پوش طبقات گھر کا راشن تک افورڈ کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پر کسانوں کو بجلی پر دی گئی 3.60روپے فی یونٹ سبسڈی ختم کرنا ظالمانہ اقدام ہے، ایسے اقدامات سے کسان مزید مسائل اور تکالیف میں مبتلا ہوں گے۔حکمرانوں نے لاکھوں نوجوانوں کو بے روزگار کر دیا، قومی معیشت ڈیفالٹ کر رہی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر کم ترین سطح پر، وزیرخزانہ کے وعدوں کے باوجود روپے کے مقابلے میں ڈالر کی اونچی اڑان جاری ہے، عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہو رہیں جب کہ ہمارے ہاں اضافہ ہورہا ہے۔
امیر جماعت کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک کی آمد سے قبل اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ انتہائی ظالمانہ فعل ہے، عوام کو سحر و افطار کی فکر ستائے جا رہی، حکمران اشرافیہ خدا کا خوف کرے۔ رمضان کی آمد سے پہلے اشیائے ضروریہ کی مصنوعی قلت پیدا کی جا رہی ہے اور عوام ان اشیا کو مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہے۔ حکومت ذخیرہ اندوزوں اور مافیا کو عبرت ناک سزا دے۔
انہوں نے کہ ملک میں عام آدمی 42اقسام کے مختلف ٹیکس ادا کرتا ہے جب کہ مراعات یافتہ طبقہ صرف 15قسم کے ٹیکس دیتا ہے، امیر اور غریب کی تقسیم معاشرہ میں جرائم اور دیگر اخلاقی برائیاں پیدا کر رہی ہے۔ ہمارے ہاں مڈل کلاس ختم ہو رہی جو کسی بھی معاشرہ کے لیے لمحہئ فکریہ ہے۔ حکومت فوری طور پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کرے تاکہ عام آدمی اپنے بچوں کے لیے دو وقت کے کھانے کا بندوبست کر سکے۔
سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی کی معاشی پالیسی دولت کا ارتکاز نہیں اس کی سرکولیشن ہے ہم اقتدار میں آ کر سودی نظام کو ختم کریں گے، ٹیکسز کی بجائے زکوۃ اور عشر کا نظام لائیں گے، ملک میں ساڑھے 7 کروڑ افراد زکوۃ دے سکتے ہیں، صرف 25 لاکھ انکم ٹیکس دیتے ہیں۔زکوۃ و عشر کا نظام لاگو ہوجائے تو پاکستان لینے والا نہیں دینے والا بن جائے۔
انہوں نے کہا کہ صرف جماعت اسلامی ہی ملک کو اسلامی معیشت دے سکتی ہے۔ پاکستان کے تمام مسائل کا حل اسلامی نظام ہے،پاکستان اسلام کے نام پر بنا مگر یہاں ایک دن کے لیے بھی قرآن وسنت کا نظام نافذ نہیں ہوا۔ جماعت اسلامی کی جدوجہد کا مقصد ملک میں پرامن، جمہوری اسلامی انقلاب ہے۔

