پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم حکومت مجھے گرفتار کرنا چاہتی ہے۔ حکومت کے مذموم ارادوں کو جانتے ہوئے بھی اسلام آباد کی عدالت میں پیش ہونے جا رہا ہوں۔
عمران خان نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ پنجاب پولیس کس قانون کے تحت یہ کارروائی کررہی ہے۔ یہ لندن پلان کا حصہ ہے جہاں اس بات کا وعدہ کیا جا چکا ہے کہ مفرور نواز شریف کو اقتدار میں واپس لایا جائے گا۔ تمام کیسز میں ضمانت کے باوجود پی ڈی ایم کی حکومت مجھے گرفتار کرنا چاہتی ہے۔
عمران خان نے کہا کہ میں قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہوں اسی لیے حکومت کے مذموم ارادوں کو جانتے ہوئے بھی اسلام آباد کی عدالت میں پیش ہونے جا رہا ہوں۔ پی ڈی ایم کی حکومت کا واضح مقصد مجھے گرفتار کرنا ہے۔ ان حرکتوں سے چوروں اور ڈاکوؤں کا یہ ٹولہ بے نقاب ہوگیا ہے۔
نواز شریف کی ڈیمانڈ ہے کہ مجھے جیل میں ڈالو، یہ لندن پلان کے تحت مجھے گرفتار کرنا چاہتے ہیں۔
عمران خان کا خصوصی پیغام pic.twitter.com/wVTJkR8Ikm— Naya Daur Urdu (@nayadaurpk_urdu) March 18, 2023
عمران خان نے زمان پارک میں جاری پولیس آپریشن کے بارے میں کہا کہ میرے گھر پرحملہ کرنے کا مقصد میرا عدالت پہنچنا یقینی بنانے کے لیے نہیں تھا بلکہ مجھے جیل میں ڈالنا تھا تا کہ میں انتخابی مہم کی قیادت نہ کرسکوں۔
Meanwhile Punjab police have led an assault on my house in Zaman Park where Bushra Begum is alone. Under what law are they doing this? This is part of London Plan where commitments were made to bring absconder Nawaz Sharif to power as quid pro quo for agreeing to one appointment.
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) March 18, 2023
کچھ دیر قبل پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے قافلے میں شامل تین گاڑیاں کلرکہار کے قریب حادثے کا شکار ہو گئیں۔
زمان پارک لاہور سے اسلام آباد پیشی کے لئے آنے والے عمران خان کے قافلے میں شریک گاڑیوں کو حادثے سے 3 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ان گاڑیوں میں حافظ آباد کے کارکن سوار تھے۔
واضح رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان توشہ خانہ کیس میں پیشی کے لئے زمان پارک سے اسلام آباد کے لئے روانہ ہوئے تھے۔
پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی، اسلم اقبال، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید اور دیگر رہنما پی ٹی آئی چیئرمین کے ہمراہ ہیں۔ ان کے ہمراہ کارکنان کی بڑی تعداد بھی موجود ہے۔
سیشن عدالت نے عمران خان کو فرد جرم عائد کرنے کیلئے طلب کر رکھا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال جوڈیشل کمپلیکس میں توشہ خانہ کیس کی سماعت کرینگے۔ سیکیورٹی خدشات کے باعث جج ظفراقبال ایف 8 کچہری کے بجائے جوڈیشل کمپلیکس جی الیون میں سماعت کریں گے
سیشن عدالت نے31 جنوری کو عمران خان پر فردجرم عائد کرنےکے لیےتاریخ مقررکی تھی۔ مسلسل عدم حاضری پرسیشن عدالت نے 28 فروری کو ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔ سیشن عدالت نے7 مارچ کے لیے وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمدکراتے ہوئے عمران خان کوپیش کرنے کا حکم دیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے7 مارچ کو وارنٹ گرفتاری معطل کرتے ہوئے 13 مارچ کوپیش ہونےکا حکم دیا۔
عمران خان کے 13 مارچ کو پیش نہ ہونے پرناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری دوبارہ بحال ہوگئے۔
سیشن عدالت نےعمران خان کے18 مارچ کے لیے وارنٹ گرفتاری جاری کرتےہوئے انہیں پیش کرنےکا حکم دیا تھا۔ تاہم گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کو آج عدالت میں رضاکارانہ طور پر پیش ہونے کا موقع دیتے ہوئے پولیس کو گرفتاری سے روک دیا تھا۔
ہائیکورٹ نے عمران خان کو عدالتی اوقات میں ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا۔ عمران خان نے سیشن عدالت میں آج پیش ہونے کی انڈرٹیکنگ دے رکھی ہے۔
عمران خان کی پیشی کے موقع پر اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی پلان کو حتمی شکل دے دی گئی۔
رپورٹ کے مطابق جوڈیشل کمپلیکس کے دونوں اطراف کی سڑکوں کو بند کردیا گیا ہے۔ 400 پولیس اہلکار تعینات ہوں گے۔صرف متعلقہ افراد کو عدالت میں داخلے کی اجازت ہوگی۔ خواجہ حارث سمیت 3 وکلاء اور 6 پی ٹی آئی رہنماؤں کی ٹیم عمران خان کے ہمراہ عدالت جائے گی۔
