پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وکٹیں گرنے کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ پی ٹی آئی رہنما اور سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے بھی پارٹی کو خیرباد کہنے کا فیصلہ کرلیا۔ ان کے علاوہ علی زیدی اور خسرو بختیار نے بھی پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان کردیا ہے۔
کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل کو عدم شواہد کی بنیاد پر بے قصور قرار دیتے ہوئ ےرہا کرنے کا حکم دے دیا۔
ذرائع کے مطابق عمران اسماعیل نے پی ٹی آئی چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
اس سے قبل ایک ویڈیو پیغام پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی زیدی نے بھی پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔ علی زیدی نے 9 مئی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سیاست چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔وہ پاکستان کے لیے سیاست میں آئے تھے۔کافی سوچ بچار کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے۔ مشکل فیصلہ تھا، آسان فیصلہ نہیں تھا۔
انہوں نے کہاکہ میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں سیاست چھوڑ دوں گا۔ جب میں سیاست چھوڑ دوں گا تو تحریک انصاف میں بھی جو سندھ کی صدارت کے عہدہ اور کور کمیٹی کے ممبر یا ایم این اے کا سب سے میں استعفیٰ دیتا ہوں۔ سیاست کو خیر باد کہتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات کی میں نے پہلے ہی مذمت کی تھی اور اب بھی کر رہا ہوں۔ افواج پاکستان ہمارا فخر ہے اور ان کی وجہ سے ہم سکون سے سوتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہ جو ہوا وہ بڑاغلط ہوا۔ اس میں جو بھی ملوث ہو سب کو کیفرکردار تک پہنچانا ضروری ہے۔
اس سوے قبل 17 مئی کو کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں علی زیدی نے کہا تھا کہ وہ اس دن پی ٹی آئی چھوڑیں گے جب عمران خان چھوڑیں گے۔
عمران خان کے دیرینہ ساتھ علی زیدی بھی سیاست چھوڑ گئے! pic.twitter.com/9NK9PY2hDt
— Naya Daur Urdu (@nayadaurpk_urdu) May 27, 2023
علاوہ ازیں سابق وفاقی وزیر اور پی ٹی آئی رہنما خسرو بختیار نے بھی پارٹی سے دوری اختیار کرلی۔
سوشل میڈیا پرجاری اپنے ویڈیو پیغام میں خسرو بختیار نے کہا کہ ایک سال پہلے پارٹی قیادت کو بتا دیا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی قومی اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کی نئی پالسی پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی۔
سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعات نے مجبور کر دیا ہے کہ پی ٹی آئی کے نظریے سے دور ہو جاؤں۔ میں اب پارٹی کے سیاسی فلسفے کے ساتھ نہیں چل سکتا۔
خسرو بختیار نے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے پی ٹی آئی سے دوری اختیار کی ہوئی تھی۔ کور کمیٹی کی ممبرشپ اور جنوبی پنجاب کی صدارت بھی چھوڑ دی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک سال پہلے پارٹی قیادت کو بتا دیا تھا کہ اداروں سے محاذ آرائی نقصان دہ ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ میرا 25 سال کا تجربہ، مقامی، صوبائی اور قومی منصوبوں کے فرائض ادا کرنے پر محیط ہے۔مجھے یقین ہے اب پاکستان کا مستقبل تقسیم اور محاذ آرائی کی سیاست میں ہرگز نہیں ہے۔
خسرو بختیار کا بھی پاکستان تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان pic.twitter.com/ObfAXxGPkb
— Naya Daur Urdu (@nayadaurpk_urdu) May 26, 2023
واضح رہے کہ 9 مئی کے بعد سے پاکستان تحریک انصاف کے کئی ارکان پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کرچکے ہیں۔
گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنماؤں ابرار الحق اور عمران خان کے دیرینہ ساتھی سینیٹر سیف اللہ نیازی نے بھی پارٹی سے راہیں جدا کر لیں۔
اس سے قبل فردوس عاشق اعوان اور مُراد راس نے بھی پاکستان تحریک انصاف کو چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔
تحریک انصاف کے سب سے اہم رہنماؤں میں سابق وفاقی وزیر اور ترجمان فواد چوہدری، سابق وفاقی وزیر اور ممبر کور کمیٹی شیریں مزاری، سابق صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان، چودھری پرویز الہیٰ گروپ سے چودھری وجاہت حسین، چودھری حسین الہیٰ، مشیر وزیر اعظم برائے موسمیاتی تبدیلی ملک اسلم امین اور تحریک انصاف کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات محمد امجد، سابق ایم این اے محمود مولوی، عامر کیانی, جمشید چیمہ، مسرت جمشید چیمہ اور پی ٹی آئی کے سابق وزیر محمد اقبال نے پارٹی سے راہیں جدا کر لیں۔
