English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کراچی کے جعلی مینڈیٹ کو کسی صورت قبول نہیں کریں  گے، حافظ نعیم الرحمان

القمر

کراچی :امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان  کا کہنا  ہے کہ پیپلز پارٹی کی سندھ پر 15سال سے جاری حکمرانی جاری ہے لیکن کراچی میں اب تک کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا ، نا اہلی و ناقص کارکردگی کے باعث شہر کی حالت ابتر ہے کراچی عوامی مسائل کا گڑھ بن چکا ہے ۔

دفتر جماعت اسلامی کراچی ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے منڈیٹ پر قبضہ کر کے جعلی میئر  بنا دیا الیکشن کمیشن نے جعلی سازی کا ساتھ دیا ،  پیپلز پارٹی نے جماعت اسلامی کی نشستیں دوبارہ گنتی اور آر آوز اور ڈی آراوز کی ملی بھگت سے چھینی ہے،جماعت اسلامی کراچی کی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کراچی کے جعلی مینڈیٹ کو کسی صورت قبول نہیں کریں گی ، پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے اعلان کیا ہے کہ جس طرح کراچی سے جیتے ہیں پورے پاکستان میں بھی جیتیں گے، بلاول بھٹو زرداری کے بیان سے پورے پاکستانی پریشان ہیں کہ یہ کیسا انتخاب ہے جہاں انسانوں کی منڈیاں لگائی جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ  پیپلز پارٹی صوبہ سندھ میں مسلسل 15 سال سے حکومت کررہی ہے ، صوبہ سندھ اور پنجاب کی صورتحال میں زمین و آسمان کا فرق ہے،تعلیمی معیار میں پنجاب بہتر ہے لیکن سندھ میں پیپلز پارٹی نے کام کی بجائے کرپشن کے بازار گرم کر رکھے ہیں ،کاغذی کارروائیوں سے سوا کچھ نہیں ہوتا ۔

ان کا کہنا تھا کہ سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان نے کے تھری منصوبہ مکمل کیا تھا، نعمت اللہ خان اور وسیم اختر کے بعد پیپلز پارٹی نے ایڈمنسٹریٹر کے ذریعے کراچی میں حکومت چلاتی رہی  ہے  انہوں نے کے فور منصوبہ کیوں مکمل نہیں بنا،؟1991 کے مطابق دریائے سندھ سے کراچی کے عوام کے لیے ایک فیصد کوٹہ ہے،کے فور منصوبہ کے لیے دریائے سندھ سے مزید ایک فیصد کوٹہ کی منظوری ضروری ہے،اگر وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے دریائےسندھ سے مزید 1 فیصد کوٹہ میں اضافہ نہیں کروایا تو اس کا واضح مطلب یہی ہوگا کہ سندھ حکومت کے فور منصوبہ کے نا پر عوام کو پھر سے دھوکا دے رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ  پانی بلاول ہاؤس میں بھی ٹینکرز کے زریعے آتا ہے اگر آپ نے کرپشن کر کے بلاول ہاؤس کے برابر والی زمینی خریدی ہوتی تو پانی کا مسئلہ حل ہو سکتا تھا،نومنتخب مئیر میٹھی میٹھی باتیں کرکے پھر سے کرپشن کا اڈہ بنانا چاہ رہے ہیں، مرتضیٰ وہاب ایک سال ایڈمنسٹریٹر رہے اور 14 ارب روپے سڑکوں کی مرمت پر خرچ کردیے جو ایک ہی بارش میں بہ گئے،کراچی ٹیکس دیتا ہے تو صوبے اور وفاق کا بجٹ بنتا ہے لیکن کراچی کو کچھ نہیں دیا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ بتائیں کہ 13 سال میں ایس تھری کیوں نہیں بنا،پیپلز پارٹی بتائے کہ 15 سال سے کراچی کے لیے کیا کیا،بلاول بھٹو زرداری بتائیں کراچی کے عوام کو کیوں کم گنا گیا؟، بلاول بھٹو زرداری کراچی کی خود نگرانی نہ کریں تو اچھا ہوگا کیوں کہ جو کچھ بچا ہوا ہے وہ بھی ختم ہو جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے عوام نے پیپلز پارٹی کی کارکردگی پر نفرت کا اظہار کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کو مسترد کردیا۔ جماعت اسلامی کراچی کے مینڈیٹ پر قبضے کے خلاف تمام راستے اختیار کریں گے۔ ہم مینڈیٹ پر قبضے کے خلاف الیکشن کمیشن ، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ بھی جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے 31 نمائندوں کی غیر حاضری میں پیپلز پارٹی نے جبرا ووٹ ڈالنے سے روکا ہے اس پر جے آئی ٹی بنائی جائے، سعید غنی صاحب کو پہلے سے پتا چل جاتا ہے کہ پی ٹی آئی کے کتنے لوگ نہیں آئیں گے، ہم مشورہ کررہے ہیں اس کے بعد عدم اعتماد میں جانے کا آپشن بھی رکھیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے مینڈیٹ پر قبضہ کے خلاف جمعہ کے روز اسلام آباد میں 23 جون کو الیکشن کمیشن پاکستان کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کریں گے، احتجاجی مظاہرہ سے امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق خصوصی خطاب کریں گے ۔

کراچی کے پشت پر پورا پاکستان کھڑا ہے، جدوجہد جاری رکھیں گے اور مینڈیٹ ضرور حاصل کریں گے۔ جماعت اسلامی کے نومنتخب ٹاؤنز چئیرمن یوسی چیئرمین اور وائس چیئرمین اور کونسلرز کے اعزاز میں کل استقبالیہ کنونشن منعقد کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی  شہر قائد کی تعمیر اور ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی اور اگر کرپشن کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کا راستہ روکا جائے گا۔ جماعت اسلامی کی لڑائی مرتضیٰ وہاب سے یا کسی شخص سے نہیں بلکہ مینڈیٹ پر ڈالے اور قبضے سے ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے