لاہور: پنجاب کے مختلف شہروں میں تیز ہوا کے ساتھ موسلا دھار بارش کے باعث گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرنٹ لگنے، عمارات گرنے، آسمانی بجلی اور ڈوبنے کے واقعات میں 20 افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز موسم کی شدت نے پنجاب اور بلوچستان کے کچھ علاقوں میں انفرااسٹرکچر اور مویشیوں کو بھی نقصان پہنچایا تھا اور آسمانی بجلی گرنے کے نتیجے میں اموات نارووال، سیالکوٹ اور شیخوپورہ میں رپورٹ ہوئیں۔
ترجمان ریسکیو 1122 پنجاب فاروق احمد نے صوبے کے مختلف شہروں میں موسلا دھار بارش کے باعث پیش آئے واقعات میں ہونے والی اموات کی تصدیق کی۔
ترجمان ریسکیو 1122 پنجاب کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ صوبائی دارالحکومت میں دیواریں اور چھتیں گرنے سے 10 جبکہ چنیوٹ میں 3 افراد زخمی ہوئے، اس کے علاوہ شیخوپورہ میں بھی ایک شخص زخمی ہوا۔
بیان میں کہا گیا کہ آسمانی بجلی سے نارووال میں 5 اور شیخوپورہ میں 2 افراد جاں بحق ہوئے جب کہ آسمانی بجلی گرنے سے 7 لوگ زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر ہاسپٹل منتقل کیا گیا۔
ترجمان ریسکیو 1122 نے کہا کہ کرنٹ لگنے کے 61 واقعات ہوئے جن میں زخمی ہونے والے 54 لوگوں کو فوری ریسکیو سروسز فراہم کی گئی، اس دوران الیکٹرک شاک ایمرجنسیز میں 6 افراد کی اموات ہوئیں۔
بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ڈوبنے کے 10 حادثات پیش آئے جن میں 7 افراد کی موت واقع ہوئی۔
لاہور میں رات گئے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے کلب چوک سے آواری چوک تک بارش کا پانی موجود ہے، بارش کی وجہ سے ٹریفک سست روی کا شکار ہے، پانی کی وجہ سے گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں بند ہو رہی ہیں جب کہ ٹریفک وارڈن گاڑیوں کو دھکا لگا پانی سے نکالنے میں شہریوں کی مدد کر تے نظر آئے۔
سٹی ٹریفک پولیس افسر لاہور کیپٹن(ر) مستنصر فیروز نے شہریوں سے محتاط ڈرائیونگ کے ساتھ ساتھ پانی کم ہونے تک غیر ضروری سفر سے اجتناب کرنے کی اپیل کی۔
سی ٹی او لاہور نے تمام سرکل افسران کو سڑکوں پر الرٹ رہنے کا حکم دیا جس کے بعد فوک لفٹرز اور بریک ڈاؤنز نشیبی مقامات پر تعینات، کردیے گئے۔
