English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ٹریفک پولیس موٹر سائیکل لفٹنگ  کی آڑمیں بھتہ لینے میں ملوث

کراچی ( رپورٹ:محمد علی فاروق )پولیس کے اعلیٰ افسران کی سر پرستی میں پارکنگ مافیابھتہ کی وصولی کے ساتھ موٹر سائیکل لفٹگ میں بھی ملوث ہیں۔

ذرائع کے مطابق شہر کراچی میں جنگل کا قانون رائج ہے، مافیاز کو کھلی چھوٹ مل چکی ہے جس کی وجہ سے عوام کا جینا محال ہو گیا ہے۔ مہنگائی، بیروزگاری اور بنیادی سہولیات میسر نہ ہونے کی وجہ سے زندگی اجیرن بن گئی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ شہر کراچی میں مافیاز نے عوام کو کہیں کا نہیں چھوڑا جس کی وجہ سے عوام پریشان اور بد حال ہیں، شہر کراچی میں دیگر مافیاز کی طرح ٹریفک پولیس کی سر پرستی میں پارکنگ مافیا نے بھی اپنے پنجے گاڑھ لیے ہیں۔

 جہاں پر مافیا کا دل کرتا ہے پولیس کی سر پرستی میں غیر قانونی پارکنگ بنا کر پیسے کما نا کا دھندے کا آغاز کر دیا جاتا ہے ، ہر سروس روڈ، اسپتال، پارک، فوڈ سٹریٹ، بازار، مارکیٹ سمیت دیگر جگہوں پر اپنے کارندے کھڑے کر دیے ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپے پارکنگ فیس جو کہ غیر قانونی ہے عوام سے وصول کی جارہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ سپریم کورٹ کے حکم کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

متعلقہ ادارے سپریم کورٹ اور کمشنر کراچی کی جانب سے مقرر کردہ فیس پر عمل درآمد کروانے میں مکمل ناکام اور خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہر کراچی کی کوئی بھی مشہور جگہ مافیا کی پہنچ سے دور نہیں پہلے متعلقہ تھانے کی سر پرستی میں مافیا پارکنگ سے گاڑیاں چوری کر تے ہیں بعد ازاں وہا ں چوکیداری کے نام پر غیر قانونی پارکنگ قائم کر دی جاتی ہے ۔

 اسی طرح شہر کراچی کی کوئی جگہ مافیا سے آزاد نہیں جس کہ وجہ سے راہ گیر سمیت دیگر گاڑیوں اور ایمرجنسی کی صورت میں ایمبولینس یا کسی مریض کو اسپتال لے جانے میں مشکل پیش آتی ہے۔

 دوسری جانب دیکھنے میں یہ بھی آیا یے کہ پولیس کی سر پرستی میں موٹر سائیکل لفٹ کرنے والے کارندوں کا تعلق موٹر سائیکل لفٹر گنگ سے ہوتا ہے، غیر قانونی پارکنگ سے موٹر سائیکل سمیت دیگر اشیا بھی پارکنگ کے کارندے چوری کرنے میں ملوث پائے گئے ہیں ، پولیس ان کی مکمل سر پرستی کر تی ہے اور ان کے خلاف کاروائی کرنے سے گریزاں ہے۔

اکثر و بیشتر شہری پارکنگ فیس بھی ادا کرتے ہیں مگر اس کے باوجود موٹر سائیکل پارکنگ والے اپنے کارندوں کے ذریعے موٹر سائیکل چوری کرا لیتے ہیں کیونکہ اعلیٰ افسران تک پارکنگ کے نام پر بھاری رقم پہنچتی ہے ،یہی وجہ ہے کہ پارکنگ مافیا کے خلاف کوئی بھی کارروائی کرنے سے گریزاں ہے۔

پارکنگ مافیا پولیس کے اعلیٰ افسران کی سر پرستی میں ہر سال بھاری رقم کے عوض ٹیندر اپنے نام کر لیتے ہیں اور بعد ازاں ایک یا دو اقساط کے بعد پورے شہر میں غیر قانونی پارکنگ فیس وصول کی جاتی ہے تاہم سال ختم ہونے پر ٹینڈر کی پوری رقم ادا نہ کرنے پر مذکورہ کمپنی کو ڈیفالٹر یا بلیک لسٹ  کر دیا جاتا ہے،پولیس کے اعلیٰ افسران کی سر پرستی میں اگلے سال کسی اور نام سے کمپنی کو ٹینڈر دے کر سالوں سے اسی طرح یہ کھیل کھیلا جارہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے