English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

جماعت اسلامی ملک کو تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن کرسکتی ہے، دردانہ صدیقی

القمر

کراچی: حلقہ خواتین جماعت اسلامی کے تحت ہفتہ کو فاران کلب میں ”گھرا ہوا ہے ابر،مہتاب ڈھونڈتا ہوں میں”کے عنوان سے کانفرنس منعقد ہوئی ،کانفرنس میں خواتین ڈاکٹرز ،وکلا ، اساتذہ ، طلبا سمیت مختلف طبقہ فکر سے وابستہ خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔

کانفرنس کی صدارت سکیریٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان دردانہ صدیقی نے کی جبکہ صدر انٹر نیشنل ویمن یونین ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے خصوصی خطاب کیا، کانفرنس سے ناظمہ کراچی اسما سفیرنے افتتاحی خطاب کیا اور خواتین کوکانفرنس میں شرکت کرنے پر شکریہ ادا کیا ۔

اس موقع پر دردانہ صدیقی نے کانفرنس میں موجود تمام شرکا سے عہد لیا، کانفرنس میں معتمدہ پاکستان تسنیم معظم، ناظمہ صوبہ سندھ رخشندہ منیب، سکریٹری اطلاعات ثمرین احمد و دیگر بھی موجود تھیں۔

دردانہ صدیقی نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج کی کانفرنس ہم سب کے لیے سوچنے اور سمجھنے کا بہترین موقع ہے، اللہ کا شکر ہے کہ جس نے ہمیں مسلمان بنایا، پاکستانی بنایا اور جماعت اسلامی کا کارکن بنایا، قائد اعظم محمد علی نے قوم کو نظریہ پیش کیا، قائد اعظم محمد علی جناح نے  پاکستان کو دنیا بھر کے لیے اسلامی فلاحی ریاست ماڈل قرار دیا تھا، پاکستان کے قیام کا مقصد انسانوں کو انسان کی غلامی سے نکال کر ایک اللہ کی بندگی میں ڈالنا تھا، پاکستان کو اللہ تعالی نے بے شمار وسائل سے مالا مال کیا ہے، پاکستان کی غیر معمولی جغرافیائی حیثیت ہے۔

ریسرچ کے مطابق صرف دریائے گلگت اتنی بجلی پیدا کرسکتا جو پاکستان کے لیے کافی ہے، فری لاسنگ کے حوالے سے پاکستان تیسرے نمبر پر ہے، ہمارے حکمران عالمی مالیاتی اداروں کے ہاتھوں کشکول لے کر کھڑے ہوتے ہیں، بجلی کے بلوں میں 40 فیصد ٹیکس لگا کر بھیجا جارہا ہے ، پیٹرول کی قیمت میں ایک ماہ میں 3 دفعہ اضافہ کردیا گیا، ہمارے حکمران آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر کام کررہے ہیں، بحیثیت قوم ہم نے اپنی اصل کو بھلادیا ہے، قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد 76 سال سے مفاد پرست لوگ ہم پر مسلط ہیں، ہم نے انگریزوں سے آزادی حاصل کی تھی لیکن نظام انگریزوں کا ہی چلایا جارہاہے، ہم نے ملک میں سود کا نظام قائم کرکے اللہ اور رسول سے جنگ کی ہوئی ہے، یہی وجہ ہے کہ ملک معاشی تباہی کا شکار ہے۔

انہوں نے کہاکہ تعلیمی اداروں میں منشیات عام ہیں، بہاولپور اور پشاور یونیورسٹیوں میں طالبات کو تحفظ حاصل نہیں ہے،پولیس کا محکمہ مجرموں کی سرپرستی کررہا ہے، مظلوموں کی دادرسی کرنے والا کوئی موجود نہیں ہے، پانامہ لیکس پنڈورا لیکس اور گوشہ خانے حکمرانوں کے کارناموں سے بھرے ہوئے ہیں، موجودہ منظر نامے سے مایوس ہونے کے بجائے متحد اور متفق ہوجائیں، زندہ قومیں کبھی مایوس نہیں ہوتیں، اللہ کے نیک بندے اللہ کی بتائی ہوئی ہدایت پر عمل کرتے ہیں تو اللہ بھی اپنا وعدہ پورا کرتاہے، ایمان کی پختگی اور عملی زندگی قرآن و سنت کے عین مطابق ہونا چاہیئے، چینی قوم افیوم کی نشے کی عادی تھی لیکن جب انہوں نے ترقی کرنے کی ٹھانی تو پوری دنیا میں اپنا نام پیدا کیا، چینی قوم کی ڈکشنری میں ناممکن لفظ نہیں ہے، برصغیر کے مسلمانوں کو انگریزوں کی حاکمیت سے آزادی آزادی کے جذبہ، بے دریغ قربانی اور مخلص نڈر باصلاحیت قائد کی وجہ سے ہی حاصل ہوسکی، آج بھی انہی 3 عوامل کی وجہ سے ہی ہم نا اہل حکمرانوں سے جاں چھڑا سکتے ہیں، جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جو ملک کو تعمیر اور ترقی کی راہ پر گامزن کرسکتی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کی جائیں ۔ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہاکہ معاشرے میں حجاب کی تہذیب کو اجاگر کرنا بحیثیت مسلمان ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔خواتین کو اصلاح معاشرہ اور بچوں کی تربیت میں بہترین کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

ہم بحیثیت مجموعی مغرب کے تعلیمی اداروں سے بہت متاثر ہوتے ہیں۔ مغرب میں مخلوط تعلیمی نظام خرابی کی جڑ ہے جس میں حجاب اوراسلامی تہذیب کے کلچر کوبے کار قراردیا گیاہے، ریاست اور معاشرے کی مجموعی ذمہ داری ہے کہ مل کر لوگوں کی تربیت کریں، پاکستان میں کام کرنے والی این جی اوز بھی معاشرے میں بہتری کے بجائے مغرب کے ایجنڈے کو پورا کرنے میں مصروف ہیں۔

ٹرانسجینڈر ایکٹ بل  پارلیمنٹ کے ممبر اور مقننہ کے ذریعے با آسانی پاس کردیا گیا جس کے اثرات معاشرے پر بہت برے ثابت ہورہے ہیں ، حلقہ خواتین جماعت اسلامی نے خواجہ سراں کے لیے خصوصا فلاح و بہبود کے لیے کام کرتی ہے، ہم خواجہ سراں کے حقوق کے محافظ ہیں، وہ مرد جو خواجہ سرا بن کر حقوق پر ڈاکا ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں ان کے خلاف ہیں، ہمیں اپنی نسلوں اور معاشرے کی فکر کرنی چاہیئے اور اس فتنے کے خلاف بات کرنی چاہیئے۔

انہوں نے کہاکہ آج کے دور میں بھی پرنٹ میڈیا کی اپنی اہمیت موجود ہے، سوشل میڈیا ایک بڑی طاقت کے طور کر ابھر کر سامنے آیا ہے، سوشل میڈیا جہاں ایک بہت بڑا چیلنج ہے وہاں سوشل میڈیا مثبت استعمال کے ذریعے بہترین موقع ہے، سوشل میڈیا کو اپنے حق میں استعمال کریں ، اسی طریقے سے الیکٹرانک میڈیا اور پیمرا کی جانب سے ایسی چیزیں نشر ہونا چاہیئے جس سے عوام کی اصلاح ہو۔

انہوں نے کہاکہ کراچی کی نوجوان خواتین جماعت اسلامی خواتین سے جڑ جائیں، جماعت اسلامی حلقہ خواتین اپنے کارکنان کی تربیت کرتی ہے، حلقہ خواتین کارکنان کے لیے ایسے پروگرامات ترتیب دیتی ہیں جس سے کوئی گھبراہٹ نہیں ہوگی نہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کراچی کی خواتین جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر معاشرے کی اصلاح کے لیے مل کر کام کریں۔

کانفرنس میں حلقہ خواتین جماعت اسلامی کراچی کی معتمدہ فرح عمران ،نائب ناظمات کراچی ثنا علیم ، سمیہ عاصم،شمینہ عتیق،شیبہ طاہر اور جاویداں فہیم بھی موجود تھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے