مقبوضہ بیت المقدس: صہیونی ریاست اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مسلط کی گئی جنگ کو 200 دن مکمل ہو گئے ہیں، اس دوران قابض اسرائیلی فوج کی دہشت گردی میں نہتے فلسطینیوں پر 75 ہزار ٹن بارود کی بارش کی گئی۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق فلسطین کی پہلے سے محصور پٹی غزہ پر اسرائیل نے گزشتہ برس 7 اکتوبر کو حملے کرکے جنگ مسلط کی تھی، جسے 200 دن مکمل ہو چکے ہیں، اس دوران قابض اسرائیلی فوج نے مسلسل حملوں اور بم باری کے نتیجے میں غزہ کو مکمل تباہ اور 34 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید کردیا ہے، جن میں خواتین اور بچوں کی تعداد نصف سے بھی زیادہ ہے جب کہ املاک کی تباہی کے نتیجے میں بے گھر ہونے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔
غزہ کی وزارت صحت کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی دہشت گردی میں شہید ہونے والوں کی تعداد 34 ہزار 183 ہو چکی ہے جب کہ زخمیوں کی تعداد 77 ہزار 143 بتائی جاتی ہے۔
قابض اسرائیلی فوج کی دہشت گردی کا نشانہ بننے والے مظلوم و نہتے فلسطینیوں میں سب سے زیادہ تعداد خواتین و بچوں کی ہے، جس کے مطابق شہید بچوں کی تعداد 14 ہزار 500 سے زیادہ اور شہید خواتین کی تعداد 9ہزار 500 سے تجاوز کر چکی ہے۔
ذرائع ابلاغ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں شہید فلسطینیوں کی اصل تعداد جاری کیے گئے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیوں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے بڑی تعداد میں لاشیں موجود ہونے کا امکان ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صہیونی ریاست اسرائیل نے غزہ پر مسلط کی گئی جنگ میں گزشتہ 200 دنوں میں 75 ہزار ٹن بارود کی بارش کرکے محصور پٹی کو تباہ اور ملبے میں تبدیل کردیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر سے ہونے والی جارحیت میں صرف غزہ میں اب تک تقریباً 4 لاکھ سے زیادہ رہائشی یونٹس اور 400 سے زیادہ تعلیمی ادارے ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔
قابض اسرائیلی فوج اپنی دہشت گردی کے دوران سنگین جنگی جرائم کی مرتکب ہوئی ہے جب کہ عالمی سطح پر اسرائیلی حملوں کو فلسطینیوں کی نسل کشی بھی قرار دیا جا چکا ہے۔ اسرائیلی دہشت گرد فوج نے اپنی کارروائیوں میں غزہ کے اسپتالوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا اور 30 سے زیادہ اسپتالوں کے علاوہ 50 سے زائد دیگر طبی و صحت کے مراکز کو تباہ کردیا۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیلی حملوں میں 126 ایمبولینسیں بھی بناکارہ ہو گئیں۔
اسی طرح غزہ کی 556 مساجد کو اسرائیلی بمباری میں شہید کردیا گیا جب کہ 3 چرچ بھی صہیونی دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ عالمی رپورٹ کے مطابق غزہ میں آثار قدیمہ کے 206 مقامات پر بھی اسرائیلی فوج نے حملے کیے۔
فلسطینی ذرائع ابلاغ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے نتیجے میں صرف غزہ میں ہونے والے نقصانات کا تخمینہ کم از کم 30 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

