English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

قومی اسمبلی سینیٹ : پارٹی وابستگی تبدیل نہ کرنے کا الیکشن ایکٹ ترمیمی بل منظور،اپوزیشن کا احتجاج قانون چیلنج کرنے کا اعلان

القمر

اسلام آباد (آن لائن /اے پی پی /مانیٹرنگ ڈیسک)پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں قومی اسمبلی اور سینیٹ نے اپوزیشن کے شور شرابے اور ہنگامہ آرائی کے دوران الیکشن ایکٹ ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کرلیا اپوزیشن نے اسپیکرڈائس کا گھیرائو کرلیا اورشدید نعرے بازی کی۔الیکشن ایکٹ 2017ء میں ترامیم کا بل جسے الیکشن (دوسرا ترمیمی) ایکٹ 2024 کا نام دیا گیا، اس میں پہلی ترمیم سیکشن 66 اور دوسری ترمیم سیکشن 104 میں متعارف کروائی گئی ہے۔ پہلی ترمیم کے مطابق کسی سیاسی جماعت کی جانب سے وابستگی کا اقرار نامہ تبدیل نہیں کیا جاسکتا جب کہ دوسری ترمیم میں کہا گیا ہے کہ جس پارٹی نے مخصوص نشستوں کی فہرست نہ دی ہو، اسے مخصوص نشستیں نہیں دی جاسکتیں۔ ترمیمی بل کے مطابق انتخابی نشان کے حصول سے قبل پارٹی سرٹیفکیٹ جمع نہ کرانے والا امیدوار آزاد تصور ہو گا، مقررہ مدت میں مخصوص نشستوں کی فہرست جمع نہ کرانے کی صورت میں کوئی سیاسی جماعت مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں ہوگی۔ ترمیمی بل میں کہا گیا کہ کسی بھی امیدوار کی جانب سے مقررہ مدت میں ایک مرتبہ کسی سیاسی جماعت سے وابستگی کا اظہار ناقابل تنسیخ ہو گا۔ علی محمد خان نے کہا کہ یہ قانون سازی ہمارا راستہ روکنے کے لیے ہے۔ منگل کو قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا جس میں مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی بلال اظہر کیانی نے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل منظوری کے لیے پیش کیا جب کہ اپوزیشن اراکین کی جانب سے بل کی شدید مخالفت کی گئی۔ اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور ایوان میں نعرے بازی کرتے رہے، اپوزیشن ارکان اسپیکر ڈائس کے سامنے آ گئے، اپوزیشن ارکان نے بل نامنظور کے نعرے، عدلیہ اور جمہوریت پر حملہ نامنظور کے نعرے لگائے۔ حکومتی ارکان کی جانب سے الیکشن ایکٹ2017ء میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی سے منظور کرلیا گیا جب کہ اپوزیشن اراکین صاحبزادہ صبغت اللہ اور علی محمد خان نے الیکشن ایکٹ میں ترمیم پیش کی جسے کثرت رائے سے مسترد کردیا۔ بعد ازاں ترمیم کو چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پیش کیا گیا۔ بل پیش کرنے کی تحریک مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر طلال چودھری نے پیش کی جب کہ اس دوران اپوزیشن نے چور چور اور چوری کا بل نامنظور کے نعرے لگائے۔ قائد حزب اختلاف سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ یہ بل بدنیتی پر مبنی ہے، بڑے بڑے نام جاکر عدالت عظمیٰ اور الیکشن کمیشن میں بھیک مانگ رہے تھے کہ مخصوص نشستیں ہمیں دی جائیں، یہ بل عدالت عظمیٰ پر براہ راست حملہ ہے، آپ ایسی قانون سازی کریں گے کہ ملک کی تاریخ میں آپ شرمندہ ہوں گے۔ سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ان کے آزاد ارکان کسی دبائو کے بغیر سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوچکے ہیں‘ آزاد ارکان کی شمولیت کے لیے 3 دن دیے جا رہے ہیں‘ قانون سازی کا اختیار منتخب پارلیمنٹ کے پاس ہے‘ 17 لوگوں کو نہیں دے سکتے، آئین قانون کی تشریح کو تشریح تک رہنا چاہیے، اسے ری رائٹ نہیں ہونا چاہیے‘ یہ بل آئینی و قانونی اسکیم کے تحت بالکل درست ہے، آئین کی تشریح اور دوبارہ لکھنے میں بڑا فرق ہے۔ سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ اس بل پر ووٹنگ سے قبل ہمیں سن لیتے، بل آئین سے متصادم ہے، بل کو عدالت عظمیٰ ختم کر دے گی۔ تحریک انصاف نے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہر کا کہنا ہے کہ عدالت عظمیٰاس غیرقانونی اور بدنیتی پر مبنی قانون سازی کو مسترد کردے گی، پارلیمان سپریم ضرور ہے مگر آئین کی تشریح عدالت عظمیٰ کا اختیار ہے، عدالت عظمیٰ نے جو آئین کی تشریح کی وہ حتمی ہے، پارلیمان کی قانون سازی سے ختم نہیں ہوسکتی۔ بیرسٹرگوہرکا کہنا ہے کہ یہ بل حکومت کے لیے نشان عبرت بنے گا، شہبازشریف حسینہ واجد کو فون کرکے جانے کا طریقہ اور راستہ پوچھ لیں‘ سیاسی جماعت کو اسپیس نہیں دیں گے تو یہ اسپیس کوئی اور لے گا اور انجام حسینہ واجد والا ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے