English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

میری حکومت کے خاتمے میں امریکا کا ہاتھ ہے،حسینہ واجد،عبوری حکومت کا سابق وزیراعظم کو وطن واپس لانے پر غور

القمر

نئی دہلی/واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) طلبہ کی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں مستعفی ہوکر بھارت فرارہونے والی بنگلا دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ واجد نے کہا ہے کہ میری حکومت گرانے میں امریکا کا ہاتھ ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ائربیس قائم کرنے کے لیے سینٹ مارٹن جزیرہ امریکا کو نہ دینا میرا جرم بنا دیا گیا، اگر میں استعفیٰ نہ دیتی تو مجھے لاشوں کا جلوس دیکھنا پڑتا،میرے ہم وطن شدت پسندوں کے بہکاوے میں نہ آئیں۔یہ بیان دراصل شیخ حسینہ واجد کا مستعفی ہونے سے قبل قوم سے کی جانے والی تقریر پر مبنی تھا جو انہیں کرنے نہیں دی گئی تھی کیونکہ مشتعل مظاہرین ان کے گھر پر پہنچ گئے تھے اور ملک کے سیکورٹی افسران نے حسینہ واجد کو جلد سے جلد وہاں سے نکل جانے کا مشورہ دیا تھاتاہم اب بھارت میں حسینہ واجد نے کچھ لوگوں سے اپنی اْس نہ ہو پانے والی تقریر کے مندرجات پر گفتگو کی ہے اور این ڈی ٹی وی نے تحریری تقریر کے مندرجات دیکھے اور اپنی رپورٹ میں شائع کیے۔ 76 سالہ شیخ حسینہ کی تقریر کا سب سے اہم حصہ وہ یے جس میں انہوں نے امریکا پر الزام لگایا ہے کہ وہ ملک میں طلبہ تحریک اور مشتعل مظاہرین کے ذریعے حکومت کی تبدیلی کی سازش کر رہا ہے۔شیخ حسینہ نے دعویٰ کیا کہ بنگلا دیش اور میانمار کے کچھ علاقوں کو ملا کر ایک نیا ‘‘عیسائی ملک’’ بنانے کی سازش ہورہی ہے جس کے لیے امریکا نے سینٹ مارٹن جزیرہ مانگا تاکہ اپنا ائربیس بنانا چاہتا تھا لیکن میں نے ملک کی خودمختاری کو داؤ پر نہیں لگایا اور جزیرہ دینے سے انکار کردیا تھا،اگر میں کسی خاص ملک کو بنگلا دیش میں ائربیس بنانے کی اجازت دیتی تو میرے اقتدار کو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔شیخ حسینہ نے جنوری میں ہونے والے الیکشن پر امریکا کی جانب سے دھاندلی کے الزامات اور غیر منصفانہ قرار دینے کو بھی قومی سلامتی کے منافی قرار دیا۔یاد رہے کہ سینٹ مارٹن جزیرے کا رقبہ صرف 3 مربع کلومیٹر ہے اور یہ خلیج بنگال کے شمال مشرقی حصے میں واقع ہے۔حسینہ واجد نے مستعفی ہونے اور ملک چھوڑنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے اپنی تقریر میں کہنا تھا کہ اگر میں ایسا نہ کروں تو ملک میں مزید خون بہے گا لیکن امید مت چھوڑیں میں جلد واپس آؤں گی،مجھے وقتی طور پر شکست ہوئی ہے لیکن بنگلا دیش کے لوگ جیت گئے وہ لوگ جیت گئے جن کے لیے میرے والد اور میرا پورا خاندان قربان ہوگیا تھا۔ عوامی لیگ ہر بحران کے بعد کھڑی ہوئی ہے۔ شیخ حسینہ واجد کی نہ ہونے والی تقریر میں طلبہ احتجاجی تحریک کے دوران اپنے ریمارکس کہ اگر مکتی باہنی کے اولادوں کو کوٹا نہیں ملے گا تو کیا رضاکاروں کو ملے گا کی وضاحت بھی کی۔حسینہ واجد نے یہ واضح کیا کہ انہوں نے احتجاج کرنے والے طلبہ کو کبھی بھی رضاکار نہیں کہا بلکہ آپ (طلبہ) کو اکسانے کے لیے میرے الفاظ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ میری طلبہ سے درخواست ہے کہ پوری وڈیو دیکھیں۔یاد رہے کہ1971ء میں سقوط ڈھاکا کے وقت عوامی لیگ کی جانب سے پاکستانی فوج کے حامیوں کو رضاکار کہا جاتا تھا اور جب یہ لفظ حسینہ واجد نے طلبہ مظاہرین کے لیے استعمال کیا تو اس کا شدید ردمل سامنے آیا۔طلبہ نے احتجاجی مظاہروں میں تمیں کون امیں کون ؟ رضا کار رضاکار کے نعرے لگنے شروع کردیے۔دوسری جانب بنگلا دیش کی عبوری حکومت نے حسینہ واجدکو وطن واپس لانے پر غور شروع کردیا۔شیخ حسینہ واجد وطن واپس آئیں اور مقدمات کا سامنا کریں،مجھے حیرت ہے کہ معزول وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد ملک سے فرار کیوں ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ ہم سابق بنگلا دیشی وزیراعظم کے دور حکومت میں ہونے والی ہلاکتوں پر انصاف چاہتے ہیں اور یہ طلبہ تحریک کا ایک اہم مطالبہ ہے، اور اس حوالے سے ہم اقدامات کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر شیخ حسینہ واجد واپس بنگلا دیش نہیں آئیں تو ہم عدالتی نظام یا پھر اسپیشل ٹریبونل کے ذریعے ان کی گرفتاری کے لیے اقدامات کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت میں ہونے والی مبینہ کرپشن کی تحقیقات ضروری ہیں، انتخابات سے قبل ملک میں انتخابی اور آئینی اصلاحات کی ضرورت ہے، بھارت نے عوام کے بجائے حسینہ واجد کی عوامی لیگ کے ساتھ تعلقات کو فروغ دیا، بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں، نئی دہلی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرے۔واضح رہے 26 سالہ ناہد اسلام ڈھاکا یونیورسٹی میں سوشیالوجی کے طالب ہیں، اس کے علاوہ وہ ایک انسانی حقوق کے کارکن بھی ہیں جو سوشل میڈیا اور عوام میں کافی مقبول ہیں، اس لیے انہیں بنگلا دیش کی عبوری حکومت میں وزیر بنایا گیا ہے۔علاوہ ازیں امریکی کانگریس کے متعدد قانون سازوں نے اپنی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ بنگلا دیش میں طلبہ تحریک پر فائرنگ کرکے سیکڑوں افراد کو قتل کرنے کے ذمے دار سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے دور کے وزیرداخلہ اور عوامی لیگ کے جنرل سیکرٹری سمیت دیگر پر پابندی عاید کی جائے۔غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ڈیموکریٹک سینیٹر اور خارجہ تعلقات کمیٹی کے رکن سینیٹر وین ہولین نے کہا کہ بنگلا دیش وہ رہنما جنہوں نے اس ظالمانہ کریک ڈاؤن کا منصوبہ بنایا ان کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اسی لیے ہم انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بنگلا دیش کے سابق وزیرداخلہ اور عوامی لیگ کے جنرل سیکرٹری پر پابندی عاید کی جائے کیونکہ ہم پرامن اور جمہوری بنگلا دیش سے تعاون کے لیے کام جاری رکھیں گے۔امریکی قانون سازوں نے شیخ حسینہ واجد کے دور حکومت میں وزیرداخلہ رہنے والے اسدالزامان خان کمال اور عوامی لیگ کے جنرل سیکرٹری عبیدال قدیر پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے