کھیلوں کی ثالثی عدالت (سی اے ایس) نے بھارت کی ریسلر وینیش پھوگاٹ کی اپیل مسترد کردی ہے۔ ونیش پھوگاٹ 50 کلو گرام کی کیٹیگری میں فائنل تک پہنچی تھی۔ جس دن فائنل ہونا تھا اُس دن صبح اُس کا وزن 100 گرام زیادہ نکلا۔ اس بنیاد پر اُسے فائنل کے لیے نا اہل قرار دے دیا گیا۔
ونیش پھوگاٹ نے کھیلوں کی ثالثی عدالت میں اپیل دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ وہ چونکہ فائنل تک پہنچ گئی تھی اس لیے فائنل کے لیے نا اہل قرار دیے جانے پر بھی اُسے کم از کم چاندی کا تمغہ دیا جانا چاہیے۔
ونیش پھوگاٹ کا وزن اچانک دو کلو بڑھ گیا تھا۔ فائنل کے لیے تیار کرتے ہوئے اُس نے دو دن میں کھانا پینا چھوڑ کر ورزش کرتے ہوئے اپنا وزن گھٹانے کی بھرپور کوشش کی مگر پھر بھی اضافی 100 گرام گھٹانے میں ناکام رہی۔
ونیش پھوگاٹ نے اس قدر ورزش کی کہ اُس کا جسم پیچیدگیوں سے دوچار ہوگیا۔ اُس نے وزن گھٹانے کی غرض سے پانی پینے سے بھی گریز کیا۔ یہ سب کچھ اُس کی صحت پر بُری طرح سے اثر انداز ہوا اور اُسے اسپتال میں داخل کرنا پڑا۔
ونیش پھوگاٹ کو امید تھی کہ کھیلوں کی ثالثی عدالت اُس کے حق میں فیصلہ دے گی۔ بھارتی میڈیا نے بھی اس حوالے سے باضابطہ مہم چلا رکھی تھی۔
درجنوں میڈیا آؤٹ لیٹ یومیہ بنیاد پر رپورٹس شائع کر رہے تھے جن کے ذریعے بظاہر متعلقہ اتھارٹیز پر اخلاقی دباؤ ڈالا جارہا تھا۔ ونیش کے لیے ہمدردی کا پہلو پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی مگر کھیلوں کی عالمی عدالت نے طے شدہ اصولوں اور قواعد کے مطابق فیصلہ سنایا۔

