
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک) روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ یوکرین جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ پیوٹن نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ماہرین جلد کرسک نیوکلیئر پاور پلانٹ کا دورہ کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ دشمن نے رات گئے کرسک جوہری تنصیب پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی ۔ خبررساں اداروں کے مطابق پیوٹن نے کرسک، بلگوروڈ اور بریانسک کے علاقوں پر یوکرینی فوج کے حملے کے حوالے سے مقامی حکام کے ساتھ ملاقات کی۔ اس موقع پر کرسک کے نائب گورنر الیکسی سمرنوف نے پاور پلانٹ کی صورتحال سے آگاہ کیا۔ سمرنوف نے بتایا کہ 17 اگست کو کرسک پاور پلانٹ کے ارد گرد کی صورت حال یوکرین کے حملوں کی وجہ سے خراب ہو گئی تھی۔ دوسری جانب یوکرین نے روس کے علاقے کراسنودر میں قفقاز بندرگاہ میں ایندھن سے بھرے جہاز پر حملہ کردیا۔ مقامی حکام کا کہناہے کہیوکرین نے کراسنودار پردہشت گردانہ حملے کی کوشش کی اور ایندھن لے جانے والے جہاز کو نیپچون کروز میزائل سے نشانہ بنایا ۔ ادھر بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز یوکرین کے دارالحکومت کیف میں یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی ،جس میں سفارت کاری اور مذاکرات سے یوکرین روس تنازع کے پر امن حل کی کوشش کا اعادہ کیا گیا۔ مودی نے مذاکرات کے دوران اس بات کی وضاحت کی کہ بھارت نے جنگ کے سلسلے میں غیر جانبدار موقف کبھی اختیار نہیں کیا بلکہ وہ امن کی طرف رہا ہے۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جنگ اور تشدد مسائل کا حل نہیں ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان بات چیت بیش تر یوکرین تنازع پر مرکوز رہی۔ نریند رمودی نے صدر زیلنسکی کے ساتھ یوکرین کی زمینی صورتِ حال کا جائزہ لینے کی کوشش کی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان بہت تفصیلی اور تعمیری مذاکرات ہوئے۔
