English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

حالات غزہ و فلسطین

کملا ہیرس بھی اسرائیل نوازی کی روش پر گامزن

امریکی صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹس کی امیدوار کملا ہیرس کی جانب سے غزہ جنگ میں اسرائیل کے لیے مضبوط حمایت کے اظہار نے ایک بار پھر احتجاجی مہم کو بھڑکانے کی سبیل پیدا کر دی ہے جو کئی ہفتے قبل تک جاری تھی۔ کملا ہیرس کے اسرائیل کی کھلی اور گہری حمایت میں دیے گئے بیانات کے بعد ایک بار پھر ان کی انتخابی مہم کی سرگرمیوں کے مراکز، یونیورسٹیوں اور عوامی مقامات پر اس احتجاج کے سامنے آنے کا ماحول بننا شروع ہو رہا ہے۔ جہاں اسرائیل کی غزہ جنگ اور اس میں بچوں اور فلسطینی خواتین کی اندھا دھند ہلاکتوں کے خلاف اور فلسطینیوں کے حق میں از سر نو آواز اٹھنا شروع ہو سکتی ہے۔ ان احتجاج کرنے والوں میں امریکی یونیورسٹیوں کے طلبہ اور اساتذہ کے علاوہ امریکی عرب مسلمان ووٹر اور براہ راست ڈیمو کریٹس ارکان بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ امریکی انتخابی مہم اور سیاسی وسماجی معاملات و تغیرات کو سمجھنے والوں کے مطابق اسرائیلی جنگ کے خلاف اور فلسطینیوں کے مسلمہ حقوق کے لیے یہ امریکی عوامی احتجاج 10 ستمبر کو ٹرمپ اور کملا ہیرس کے درمیان مباحثے کے علاوہ 7اکتوبر کو غزہ میں اسرائیلی جنگ کا ایک سال مکمل ہونے پر سامنے آسکتا ہے۔ واضح رہے اسرائیلی جنگ کے دوران اب تک صرف غزہ میں عورتوں اور بچوں سمیت 40602 سے زائد فلسطینی اسرائیلی مسلح افواج نے قتل کر دیے ہیں۔ جبکہ غزہ میں بے گھر ہو چکے فلسطینیوں کی تعداد 20لاکھ کے لگ بھگ ہے۔جمعرات کے روز جارجیا میں منعقدہ ریلی میں کے دوران کملا ہیرس کی تقریر میں رکاوٹ پیدا کی جاتی رہی۔ جب سے کملا کو جو بائیڈن کی جگہ نئی صدارتی امیداوار نامزد کیا گیا ہے وہ مسلسل یہ کہہ رہی ہیں کہ وہ اسرائیل کے لیے امریکی اسلحہ کی ترسیل میں کمی نہیں کریں گی۔ انہوں یہ بات سی این این کے ساتھ اپنے تازہ انٹرویو میں بھی دہرائی ہے کہ وہ اسرائیل کے لیے اسلحہ کی فراہمی میں رکاوٹ نہیں پیدا کریں گی اور اسرائیل کو اپنے دفاع کا پورا حق ہے۔ دوسری جانب کانگریس میں ڈیموکریٹ نمائندہ رشیدہ طلیب نے کملا ہیرس کے سی این این کو دیے گئے انٹرویو پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ درست ہے کہ غزہ میں نسل کشی اور جنگی جرائم جاری رہیں گے۔ وہ پہلی فلسطینی امریکن منتخب رکن کانگریس ہیں۔ کملا کی انتخابی مہم چلانے کے ذمے دارحکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی جنگ مخالف اور جنگ بندی کے حامی ووٹروں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ انہوں نے ہی ڈیمو کریٹس کی قومی کانفرنس کے دوران ان فلسطین کے حامیوں کے لیے گنجائش پیدا کی تھی۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کملا ہیرس عرب مسلمان ووٹروں کو منانے کرنے کی کوشش کریں گی۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندرونی حلقوں میں یہ خوف اب بھی موجود ہے کہ امریکی یونیورسٹیوں میں ہونے والا طلبہ اور اساتذہ کا احتجاج 5 نومبر کو کملا کے ووٹوں پر اب بھی اثر انداز ہیونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگرچہ کملا نے حالیہ سروے میں ٹرمپ کے مقابلے میں عوامی سطح پر مقبولیت میں نسبتاً بہتری حاصل کی ہے۔کونسل آف امیریکنز اسلامک ریلیشنز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر احمد ٹیکلیگلو نے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر ہزاروں مظاہرین کملا اور ٹرمپ کے مباحثے کے موقع پر احتجاج کریں گے۔دوسری جانب طلبہ نے بھی حالیہ دنوں میں اپنے پہلے والے احتجاج کی یاد تازہ کرنے کے لیے ایک بار پھر واپس انٹری کی ہے۔ حتیٰ کہ یونیورسٹی اسٹوڈنٹس نے شکاگو میں حالیہ قومی کانفرنس میں بھی احتجاج میں حصہ لیا ہے۔ یہ آنے والے دنوں میں ان کے رجحان کا بھی اشارہ ہو سکتا ہے۔

مغربی کنارہ: کار بم دھماکے اورگاڑی سے روندنے کے واقعات‘4یہود زخمی
مغربی کنارے میں غوش عتصیون یہودی بستی میں ایک گاڑی کے دھماکے کے نتیجے میں 2اسرائیلی زخمی ہو گئے۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی کو خود کش حملے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے حملہ آور کو ہلاک کر دیا جو موقع سے فرار ہو گیا تھا۔اسرائیلی میڈیانے بتایا کہ یہودی بستی کرمی تسور میں گاڑی سے روندنے اور فائرنگ کے واقعے میں 2دیگر اسرائیلی زخمی ہو گئے۔ واضح رہے کہ مغربی کنارے کے شہر جنین میں اسرائیلی فوج کا آپریشن جاری ہے۔ اس دوران میں جنین کے جنوب میں واقع ٹاون الزبابدہ میں اسرائیلی فوج کے ڈرون طیارے نے ایک گاڑی پر بم باری کی۔ اسرائیلی فوج نے ایمبولینس کی گاڑیوں کو بم باری کے مقام تک پہنچنے سے روک دیا۔ اسرائیلی فوج نے ٹاؤن میں ایک گھر کا محاصرہ کر کے فائرنگ کی۔ اسرائیلی فوج نے جنین پناہ گزین کیمپ میں مسلسل تیسرے روز شہری اور بنیادی خدمات کے ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی کارروائیاں جاری رکھیں۔ اس میں فوجیوں کی بڑی تعداد اور بلڈوزروں نے بھی شرکت کی۔

غزہ : امدادی قافلے پر اسرائیلی حملے میں 4فلسطینی شہید
امریکا قائم امدادی گروپ انیرا نے کہا ہے کہ غزہ کے ایک اسپتال میں خوراک اور ایندھن لے جانے والے امدادی قافلے پر اسرائیلی فضائی حملے میں 4فلسطینی شہید ہو گئے۔ دوسری طرف اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ چاروں فلسطینی مسلح حملہ آور تھے۔امدادی گروپ نے اپنے بیان میں کہا کہ فلسطینی جنوبی غزہ میں رفح میں اماراتی ہلالِ احمر اسپتال کے لیے جانے والے امدادی قافلے کی رہنمائی کرنے والی گاڑی میں موجود تھے۔ امریکی تنظیم نے کہا کہ اسرائیلی حکام کا الزام ہے کہ رہنمائی کرنے والی گاڑی میں بڑی تعداد میں ہتھیار تھے۔ جائے وقوع پر موجود افراد کی رپورٹ سے پتاچلتا ہے کہ کوئی ہتھیار موجود نہیں تھے۔ اسرائیلی حکام نے اس سے قبل بات چیت میں قافلے میں غیر مسلح محافظوں کا تقاضاکیا تھاجسے پورا کیا گیا۔اسرائیلی فضائی حملے سے پہلے کوئی انتباہ نہیں دیا گیا تھا۔

غزہ پر اسرائیلی بمباری میں 41 افراد شہید
اسرائیلی فوج نے تقریباً مکمل تباہ ہوجانے والی غزہ کی پٹی میں ہفتہ کی صبح سے حملے شروع کر دیے۔ اسرائیلی فوج نے وسطی غزہ میں نصیرات کے مغرب میں ایک مکان کو نشانہ بنایا، جس میں ورلڈ کچن تنظیم کے ملازمین مقیم تھے۔ یہ تنظیم بے گھر افراد کو خوراک فراہم کرتی ہے۔ اس تنظیم کو اس سے قبل یکم اپریل کو ایک اسرائیلی حملے کا نشانہ بنایا گیا تھاجس میں تنظیم کے 7ملازمین مارے گئے تھے۔بمباری میں غزہ کی پٹی کے شمال میں بیت لاہیا کے قصبے میںانڈونیشیا اسپتال کے آس پاس تل قلیبو کے علاقے میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ شہر کے جنوب مشرق میں الزیتون محلے پر بھی 3 فضائی حملے کیے ہیں۔ان تمام حملوں میں مجموعی طو پر 41فلسطینی شہید ہوئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے