تلنگانہ:فی زمانہ بہت سی بُری عادتیں آن لائن ہیں۔ اِن میں جوا بھی شامل ہے۔ کبھی کبھی نوجوان جوئے کی لت میں پڑ جاتے ہیں اور خمیازہ پورے گھر کو بھگتنا پڑتا ہے۔ بھارت کی ریاست تلنگانا میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔
تلنگانا کے ضلع نظام آباد کے ایک نوجوان نے آن لائن جوئے کی لت میں پڑکر 30 لاکھ بھارت روپے (ایک کروڑ پاکستانی روپے) کا قرضہ چڑھالیا۔ والدین نے جب یہ دیکھا کہ یہ قرضہ اتارنا اُن کے بس کی بات نہیں تو بیٹے سمیت خود کشی کرلی۔
نوجوان کو آن لائن جوا کھیلنے کی لت کورونا وائرس کی وبا کے دوران لگی تھی۔ دھیرے دھیرے قرضہ بڑھتا گیا۔ والدین نے زرعی زمین بھی بیچی مگر اس کے باوجود قرضہ باقی رہا۔
خود کشی کرنے والوں میں 53 سالہ رنگنا وینی، 45 سالہ ہیما لتا اور ان کا 22 سالہ بیٹا ہریش شامل ہیں۔ ہریش کو آن لائن گیمنگ سے جوا کھیلنے کی لت پڑی تھی۔ دھیرے دھیرے اس پر قرضہ چڑھتا چلا گیا۔

