English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ہریانہ میں حکمراں جماعت نے حیران کن طور انتخابات میں برتری حاصل کرلی

ہریانہ : بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ہریانہ میں ہونے والے انتخابات میں حیران کن طور پر جیت کی جانب بڑھ رہی ہے ، تاہم بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پہلے انتخابات میں حزب اختلاف کے اتحاد نے جیت کو برقرار رکھا ۔

ہفتے کو اختتام پذیر ہونے والے مرحلہ وار انتخابات وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے ان کی مسلسل تیسری مدت کے بعد مقبولیت کا پہلا امتحان تھے، جس میں انہیں علاقائی جماعتوں کی حمایت حاصل تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ہریانہ میں ووٹوں کی گنتی کے رجحانات نے مودی کی ہندو قوم پرست بی جے پی کی مقبولیت کو مضبوط کیا ہے، جو حالیہ عام انتخابات میں ناکامی کے بعد پھر سے ابھر رہی ہے۔

بی جے پی رہنما ٹام وڈاکن نے کہا کہ یہ ایک واضح پیغام ہے کہ ہریانہ کے عوام نے تسلیم کیا ہے کہ یہ وہ جماعت ہے جو نتائج دیتی ہے اور مستقبل میں بھی دے گی ۔

ایگزٹ پولز نے ہریانہ میں کانگریس کی فتح کی پیشگوئی کی تھی اور IIOJK میں کانگریس اور نیشنل کانفرنس (این سی) کے حزب اختلاف کے اتحاد کو برتری دی تھی، جہاں بی جے پی ہمیشہ سے کمزور رہی ہے ۔

بھارتی الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر ووٹوں کی گنتی کے رجحانات نے مسلم اکثریتی ہمالیائی خطے میں کانگریس اور این سی کے اتحاد کو واضح اکثریت کی جانب بڑھتے دکھایا، جس کی خصوصی حیثیت کو مودی نے 2019 میں ختم کیا تھا۔

دونوں اسمبلیوں میں 90 نشستیں ہیں ۔

ووٹوں کی گنتی کے مطابق بی جے پی ہریانہ میں 48 نشستوں پر آگے تھی، جہاں وہ گزشتہ دہائی سے حکومت کر رہی ہے، جبکہ کانگریس 37 نشستوں پر برتری رکھتی تھی۔

IIOJK میں کانگریس-این سی اتحاد 47 نشستوں پر آگے تھا، جبکہ بی جے پی 29 نشستوں پر برتری لیے ہوئے تھی۔

ہریانہ میں کامیابی بی جے پی کے لیے ایک اہم سنگ میل ہو سکتی ہے، خاص طور پر عام انتخابات میں مکمل اکثریت حاصل نہ کرنے کے بعد، اور یہ کامیابی اسے مہاراشٹر اور جھارکھنڈ میں ہونے والے اہم علاقائی انتخابات سے پہلے مضبوط کر سکتی ہے۔

مغربی صنعتی مرکز مہاراشٹر میں بی جے پی کا اتحاد اقتدار میں ہے، جبکہ معدنی وسائل سے مالا مال جھارکھنڈ میں حزب اختلاف کی حکومت ہے۔

ان دونوں ریاستوں میں انتخابات کا ابھی اعلان نہیں ہوا، لیکن توقع ہے کہ نومبر میں ہوں گے۔

IIOJK میں کانگریس کی فتح اس کے رہنما راہول گاندھی کے لیے بڑی کامیابی ہوگی، جو ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس نے بھارت کو تین وزرائے اعظم دیے، مگر جنہیں مودی کی 2014 کی کامیابی کے بعد پارٹی کے زوال کا ذمہ دار سمجھا جاتا تھا۔

راہول گاندھی اس سال عام انتخابات میں 24 جماعتی اتحاد کی قیادت کر رہے تھے، جنہوں نے مودی کو واضح اکثریت سے محروم کیا اور اب وہ پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں حزب اختلاف کی قیادت کر رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے