تل ابیب : اسرائیلی فورسز نے حزب اللہ کے مضبوط گڑھ لبنان کے بیروت میں شدید حملے کیے اور فلسطینی علاقے غزہ میں بھی بمباری جاری رکھی، یہ حملے لبنانی گروپ کی جانب سے جوابی راکٹ حملوں کے بعد کیے گئے۔
اطلاعات کے مطابق حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر راکٹ فائر کیے، جبکہ اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا کہ ایک ڈرون وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے تعطیلاتی گھر کی طرف بھیجا گیا، تاہم حملے کے وقت نیتن یاہو وہاں موجود نہیں تھے۔
اسرائیلی حکام نے اس واقعے کو حزب اللہ کی قیادت میں ہونے والی قتل کی کوشش قرار دیا اور خبردار کیا کہ اس گروپ نے “سنگین غلطی” کی ہے۔
اسرائیلی فوجی حملے ہفتے کے روز مزید بڑھ گئے، اور دعویٰ کیا کہ وہ بیروت کے جنوبی علاقوں میں حزب اللہ کے ہتھیاروں کے ذخائر اور انٹیلی جنس مراکز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
حملوں کے بعد شہر میں سیاہ دھواں چھا گیا کیونکہ اسرائیل نے اس دن حزب اللہ کی جانب سے داغے گئے 200 راکٹوں کا جواب دیا۔
اسرائیل کا حالیہ حملہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری تنازعے میں تازہ ترین شدت کا مظہر ہے، جو اس وقت سے بڑھ رہا ہے جب اسرائیل نے ایک سال سے زیادہ عرصہ قبل غزہ میں حماس کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کیں۔
غزہ میں بھی تنازعہ انتہائی نازک صورتحال اختیار کر چکا ہے، جہاں اسرائیلی حملے مسلسل اس علاقے کو تباہ کر رہے ہیں۔
تازہ اسرائیلی حملوں میں 100 سے زائد افراد شہید ہونے کی اطلاع ہے، اور غزہ کے تین اسپتالوں کا محاصرہ مزید سخت ہو چکا ہے، جس سے اہم طبی سازوسامان اور خدمات کی فراہمی منقطع ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق صرف اس ماہ کے دوران غزہ میں 75,000 سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جو تنازعے کے باعث سنگین انسانی بحران کو مزید بڑھا رہا ہے۔
اسرائیلی حکام نے حماس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے، حالانکہ بدھ کو حماس رہنما یحییٰ سنوار کو شہید کردیا لیکن اپنی جارحیت کو جاری رکھے ہوا ہے ۔
یحییٰ سنوار کی شہادت کے بعد غزہ اور لبنان میں جنگ بندی کی امیدیں وابستہ تھیں، تاہم حماس اور حزب اللہ دونوں نے لڑائی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
بین الاقوامی رہنماؤں نے بڑھتے ہوئے تشدد پر تشویش کا اظہار کیا ہے
امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اسرائیل سے بیروت کے ارد گرد حملے کم کرنے کی اپیل کی، جبکہ ترک صدر رجب طیب اردوان اور جرمن چانسلر اولاف شولز نے مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے جنگ بندی پر زور دیا۔
ان اپیلوں کے باوجود، اسرائیلی فورسز نے اپنے آپریشنز جاری رکھے، بیروت کے کچھ حصوں میں انخلاء کے احکامات جاری کیے اور حزب اللہ کے ٹھکانوں پر مزید حملے کیے۔
اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والے اس تنازعے میں اب تک 42,500 سے زائد فلسطینی شہید اور 1لاکھ سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
حزب اللہ کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے، جس میں اس کے اعلیٰ سطحی کمانڈروں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں ستمبر میں اس کے سیکریٹری جنرل حسن نصراللہ کی شہادت بھی شامل ہے۔
صورتحال ابھی تک غیر مستحکم ہے کیونکہ اسرائیل حزب اللہ اور حماس کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ عالمی برادری اس تنازعے کو مزید پھیلنے سے روکنے کے طریقے تلاش کر رہی ہے۔

