سری نگر (مانیٹرنگ ڈیسک /اے پی پی) مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع بارہ مولامیں گشت پر مامور بھارتی فوج کی گاڑی پر مسلح افراد نے دھاوا بول دیا جس کے نتیجے میں 4 فوجی اہلکار ہلاک اور3 شدید زخمی ہیں۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔تاحال کسی شدت پسند تنظیم نے حملے کی ذمہ داری تسلیم نہیں کی ہے۔ بھارتی فوج نے ضلع بارہ مولا کا محاصرہ کرکے گھر گھر تلاشی کا عمل کا شروع کردیا اور اس دوران 2 کشمیری نوجوانوں کو گولیاں مار کر شہید کردیا۔ بھارتی فوج نے چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا‘ خواتین کے ساتھ بدتمیزی کی اور بزرگوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا‘ اس دوران انٹرنیٹ سروس بھی بند رہی۔بھارت نواز کٹھ پتلی انتظامیہ نے نوجوانوں کو عسکریت پسند ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے گمراہ کن بیان دیا کہ نوجوان مسلح تھے اور ان سے اسلحہ برآمد ہوا۔ کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری27 اکتوبر کو یوم سیاہ کے طور پر منائیں گے جس کا مقصد بھارتی حکام اور عالمی برادری کو یہ واضح پیغام دینا ہے کہ کشمیری اپنے مادر وطن پر غیر قانونی بھارتی قبضے کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج نے27 اکتوبر1947ء کو تقسیم برصغیر کے فارمولے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیری عوام کی مرضی کے خلاف جموں و کشمیر پر قبضہ کر لیا تھا۔27اکتوبر کو بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مکمل ہڑتال کی جائے گی۔ آزاد جموں و کشمیر، پاکستان اور دنیا بھر میں احتجاجی ریلیاں، مظاہرے اور دیگر پروگراموں کا انعقاد کیا جائے گا۔ یوم سیاہ منانے اور ہرتال کرنے کی اپیل کل جماعتی حریت کانفرنس نے کی ہے جبکہ دیگر آزادی پسند تنظیموں نے اپیل کی حمایت کی ہے۔ سری نگر، بارہمولہ، پلوامہ، اسلام آباد، کولگام، کپواڑہ اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے دیگر علاقوں میں پوسٹر بھی چسپاں کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے بھی لوگوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ 27اکتوبر کو مکمل ہڑتال کریں۔ دریں اثنا کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے جمعے کو سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حریت کانفرنس تنازع کشمیر کے پرامن حل پر یقین رکھتی ہے اور وہ اس مقصد کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ انہوں نے مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، نعیم احمد خان، آسیہ اندرابی اور دیگر حریت رہنمائوں کی مسلسل غیر قانونی نظربندی پر بھی سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
