کراچی:متحدہ قومی مووومنٹ ( ایم کیو ایم ) سے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان بننے تک ایم کیو ایم کی قیادت کئی مرتبہ تبدیل ہوچکی ہے، اب چیئرمین خالد مقبول صدیقی ، فاروق ستار اور مصطفی کمال سمیت گورنر سندھ کامران ٹیسوری بھی پارٹی کی قیادت سنبھالنے کے لیے جہدوجہد کررہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایم کیوایم کی قیادت میں اختلافات پیدا ہونے کی وجہ سے اب تک ایم کیوایم کی تنظیم کو ایک سیاسی مہرے کے طور پر زندہ رکھا ہواہے، کراچی سے کلین سوئپ کرنے والی ایم کیو ایم نے گزشتہ انتخابات میں بھی کوئی واضح کامیابی حاصل نہیں کی۔
شائد اسی وجہ سے سابق گورنر سندھ عشرت العباد نے بھی گزشتہ کچھ ماہ سے سیاسی میدان میں قدم رکھا ہوا ہے، جن کو ابھی تک کوئی خاص شہرت حاصل نہیں ہوسکی ہے، سیاسی میدان میں زندہ ہونے کے لیے انہوں نے کئی شہروں میں نے میری پہچان پاکستان کے پلیٹ فارم سے ریلیاں نکال کر اپنی جگہ بنانے کی کوشش کی ہے، جس تاحال ناکامی کا سامنا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ایم کیوایم کا مستقبل کیا ہے؟ کیا اگلے انتخابات تک یہ منشتر جماعت رہی سہی قدر بھی کھودے گی؟ اور اس طرح سندھ کے شہری علاقوں کا مینڈیٹ تحریک انصاف ( پی ٹی آئی)، پیپلزپارٹی ( پی پی ) اور جماعت اسلامی سمیت دیگر مذہبی جماعتوں میں بٹ جائے گا؟
پی ٹی آئی کا چہرہ عمران خان ہیں، ن لیگ کا چہرہ نوازشریف، پیپلزپارٹی کا چہرہ بے مثل بے نظیر کا بیٹا بلاول، اس طرح ہر سیاسی و مذہبی جماعت کا نہ صرف کوئی چہرہ ہے بلکہ ایک نظریہ بھی۔
لیکن ایم کیو ایم کے پاس فی الوقت عوام کو دینے کے لیے نہ کوئی نظریہ ہے اور نہ ہی کوئی ایجنڈا، جس کی وجہ سے ایم کیو ایم کی قیادت عوامی مقامات پر جانے سے گریز کررہے ہیں، ایک سیاسی رہنما کا کہنا ہے کہ ایم کیوایم کا وجود جنرل ضیا الحق کے ہاتھوں گوندھی گئی مٹی سے بنا ہے، اس لیے ایم کیوایم رہنما صرف دو کام کرسکتے ہیں۔
ایک یہ کہ الطاف حسین کی طرح پارٹی قائد بنیں جو بڑے سے بڑے لیڈر کو مجمع کے سامنے عام کارکن سے جوتے پڑوا کر اپنا زور قائم رکھے یا ساری ٹوپیاں خود پہن لے تاکہ اختیارات چھن جانے کا خطرہ سر پر منڈلانے سے ٹلا رہے۔
مستقبل میں ہوسکتا ہے کہ گورنرسندھ کامران ٹیسوری ایم کیو ایم میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوجائیں تو کیونکہ کامران ٹیسوری نے اپنے محدود اختیارات کے باوجود گزشتہ گورنروں کے مقابلے میں شہر کراچی میں کئی عوام فلاحی کاموں کا آغاز کیا ہے، جس کی وجہ سے وہ کراچی کی عوام میں کافی حد تک مقبول ہوگئے ہیں۔

