ویب ڈیسک— امریکہ کی ریاست ٹیکساس میں خسرے کے سبب ایک بچے کی موت ہوئی ہے۔ ریاستی حکام نے بدھ کو بچے کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ متعدی مرض سے ایک دہائی کے دوران ہونے والی پہلی موت ہے۔
ٹیکساس کے محکمۂ صحت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ خسرے سے ہلاک ہونے والے بچے کو اس بیماری سے محفوظ رہنے کی ویکسین نہیں دی گئی تھی۔
امریکہ میں خسرے سے آخری بار کسی کی ہلاکت 2015 میں ہوئی تھی۔
ریاست ٹیکساس کے حکام کا کہنا ہے کہ خسرے کی حالیہ وبا سے زیادہ تر چھوٹے بچے اور نوعمر متاثر ہو رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ریاست ٹیکساس میں خسرے کے چند کیسز سامنے آئے تھے جو اب بڑھ کر دو ریاستوں میں پھیل چکے ہیں۔
خسرے کے کیسز نیو میکسیکو میں بھی رپورٹ ہوئے ہیں اور حکام کے مطابق خسرے کی وبا کو پھیلے یہ چوتھا ہفتہ ہے اور اب تک دونوں ریاستوں میں 130 سے زیادہ افراد متاثر ہو چکے ہیں۔
ٹیکساس کے محکمۂ صحت کے حکام نے بتایا ہے کہ فروری کے آغاز سے ریاست کے مغربی علاقوں میں وبا سے کم از کم 124 افراد متاثر ہوئے ہیں جن میں سے پانچ کے علاوہ تمام افراد کی خسرے سے محفوظ رہنے کی ویکسی نیشن نہیں ہوئی تھی۔
حکام کے مطابق خسرے سے متاثر ہونے والے زیادہ تر بچے ہیں اور لگ بھگ 10 کاؤنٹیوں میں وبا پھیل چکی ہے۔

ریاست نیو میکسیکو میں بھی منگل کو خسرے کی وبا سے متاثر ہونے کے مزید نو کیسز سامنے آئے ہیں۔
نیو میکسیکو کے محکمۂ صحت نے انتباہ جاری کیا ہے کہ خسرہ پھیلنے والی وبا ہے جس سے مزید افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔
ٹیکساس کے شہر لوبیک میں قائم کوویننٹ چلڈرن اسپتال کی چیف میڈیکل آفیسر لارا جانسن کے مطابق خسرے کی وبا سے متاثرہ افراد میں تیز بخار، آنکھوں کے سرخ ہونے، ناک کی بندش، کھانسی اور چہرے سے شروع ہوکر پورے جسم پر پھیلنے والی خارش کی علامات سامنے آ رہی ہیں۔
امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن(سی ڈی سی) کے مطابق خسرہ کھانسی یا چھینکنے سے ہوا کے ذریعے پھیلتا ہے۔
سی ڈی سی کا کہنا ہے کہ امریکہ میں خسرے سے شرح اموات ہر ایک ہزار رپورٹ شدہ کیسز میں ایک سے تین کے درمیان ہے۔


ٹیکساس کے محکمۂ صحت کی ترجمان لارا انٹون کا کہنا تھا کہ وبا سے متاثر ہونے کےزیادہ تر کیسز گینز کاؤنٹی کی ایک دیہی کمیونٹی مینونائٹ میں سامنے آئے ہیں جہاں خسرے سے بچاؤ کی ویکسی نیشن کی شرح انتہائی کم ہے۔
ویکسی نیشن نہ ہونے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ ذاتی انتخاب ہے کیوں آپ جو چاہیں وہ کر سکتے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو میں لارا انٹون نے مزید بتایا کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ خسرے سے پہلا فرد کس طرح متاثر ہوا تھا۔ ان کے بقول اس بات کے شواہد موجود نہیں ہیں کہ وبا سے متاثر ہونے والے ابتدائی افراد میں سے کسی نے بھی امریکہ سے باہر سفر کیا تھا۔
حکام نے سال 2000 میں امریکہ میں خسرہ ختم ہونے کا اعلان کیا تھا کیوں کہ اس سال اس وبا کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا تھا۔
اس خبر میں شامل معلومات خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ سے لی گئی ہیں۔
