لاہور: دنیا کے معروف سرچ انجن گوگل کی انتظامیہ نے پنجاب حکومت کو شاندار آفر کرتے ہوئے گوگل کروم بک(لیپ ٹاپ) کی مقامی سطح پر تیاری کے لیے فیکٹری کے قیام کی پیشکش کردی۔
اطلاعات کے مطابق لاہور میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے گوگل فار ایجوکیشن اور ٹیک ویلی کے اعلیٰ سطح وفد نے ملاقات کی، وفد کی سربراہی گوگل فار ایجوکیشن کے گلوبل ڈائریکٹر کیون کالیس نے کی، ٹیک ویلی کے سی آئی او عمر فاروق بھی ملاقات میں شریک ہوئے۔
ملاقات میں وفد نے صوبے میں گوگل کروم بک فیکٹری کے قیام کی تجویز پیش کی جس پر وزیراعلیٰ پنجاب نے منصوبے کے لیے وفد کو مکمل معاونت کی یقین دہانی کرائی۔
بتایا گیا ہے کہ ملاقات میں پنجاب میں کروم بک فیکٹری کے قیام، سرکاری اسکولوں میں ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ اور اے آئی ٹولز کے استعمال سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس دوران وفد نے بتایا کہ نئی کروم بک میں طلباءکے لیے تین اہم سافٹ ویئرز انسٹال کیے جائیں گے جن میں جیمنائی، ریڈ آلانگ اور کینوا شامل ہیں۔
گوگل فار ایجوکیشن اب تک دو ہزار سے زائد سرکاری اساتذہ کو ٹریننگ فراہم کرچکا ہے، مزید اساتذہ کی تربیت کا عمل بھی جاری ہے۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ پنجاب حکومت آئی ٹی کو بنیادی تعلیم کا حصہ بنانے پر کام کر رہی ہے، پنجاب کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا حب بنانا حکومت کا عزم ہے، صوبائی حکومت گوگل کروم بک فیکٹری کے قیام میں تمام انتظامی و تکنیکی تعاون فراہم کرے گی تاکہ تعلیمی ٹیکنالوجی کی مقامی صنعت کو فروغ مل سکے۔
