کراچی: گلشنِ اقبال کے علاقے میں کھلے مین ہول میں گرنے والے کمسن بچے کی تلاش کے دوران سرکاری اداروں کی غیر موجودگی نے شہریوں کو شدید غم و غصے میں مبتلا کردیا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نیپا چورنگی کے قریب ایک ڈیپارٹمنٹل اسٹور کے سامنے کھلا مین ہول ایک بچے کی جان لے گیا۔ انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث سنگین حادثہ پیش آیا، جس کی اطلاع ملتے ہی علاقے میں کہرام مچ گیا۔
ابتدائی امدادی کاموں میں چھیپا، ایدھی اور مقامی شہری ہی پیش پیش دکھائی دیے جنہوں نے نہ صرف اپنی مدد آپ کے تحت سرچ آپریشن شروع کیا بلکہ مشینری کے انتظام کے لیے چندہ بھی اکٹھا کیا۔ ریسکیو کے کام میں تاخیر کے باعث حالات کشیدہ ہوگئے اور مشتعل افراد نے سڑکوں پر احتجاج شروع کردیا۔
مشتعل افراد نے ٹائر جلائے، ٹریفک معطل کیا اور انتظامیہ کی بے حسی کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
لاپتا ہونے والے بچے کی شناخت ابراہیم کے نام سے کی گئی جو شاہ فیصل نمبر 5 کا رہائشی اور والدین کی اکلوتی اولاد ہے۔ ابراہیم کے دادا مودالحسن کے مطابق حادثے کی اطلاع انہیں اس وقت ملی جب وہ اجتماع گاہ میں موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پورا خاندان غم سے نڈھال ہے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ رات گئے تک جب کہ میڈیا مسلسل واقعہ رپورٹ کر رہا تھا، متعلقہ محکمے کی جانب سے نہ کوئی افسر موقع پر آیا نہ ہی کوئی واضح ہدایت جاری کی گئی۔ کچھ دیر بعد جب مشینری لائی گئی تو چند گھنٹوں بعد اچانک کام روک دیا گیا اور مشینری واپس لے لی گئی، جس کے باعث علاقہ مکینوں میں مزید بے چینی پھیل گئی۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ قریبی بی آر ٹی منصوبے کی بھاری مشینری فوری مدد فراہم کرسکتی تھی مگر کسی سرکاری اہلکار نے اس طرف توجہ تک نہ دی۔ آخری اطلاعات آنے تک بچے کی تلاش کا کام شہریوں کی مدد سے جاری تھا اور علاقے میں شدید بے چینی پائی جاتی تھی۔
