English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

انڈونیشیا میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہلاکتیں 613 تک پہنچ گئیں

القمر

انڈونیشیا کے جزیرۂ سماترا میں موسلادھار بارشوں اور تباہ کن سیلاب نے بڑے انسانی المیے کی شکل اختیار کرلی ہے، جہاں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 613 تک پہنچ گئی ہے جبکہ سیکڑوں زخمیوں اور بے گھر افراد کی صحت و زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق عالمی ریسکیو اداروں نے بتایا کہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد اب بھی 174 افراد لاپتا ہیں اور ملبے تلے سے مزید لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ برقرار ہے، متعدد دیہات صفحۂ ہستی سے مٹ چکے ہیں اور مقامی آبادی صحت و خوراک کے سنگین بحران کا سامنا کر رہی ہے۔

اہم محکموں کے مطابق امدادی ٹیموں نے آج بھی ملبے سے درجن سے زائد لاشیں نکالی ہیں، جبکہ شدید تباہی کے باعث شمالی سماترا کے کئی علاقے زمینی راستوں سے کٹ چکے ہیں، سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ، تباہ شدہ پل اور مواصلاتی نظام کی خرابی نے زخمیوں تک رسائی اور طبی امداد کی فراہمی مزید مشکل بنا دی ہے۔

ریسکیو اور فائر بریگیڈ کے اہلکاروں کے ساتھ 3,500 سے زائد پولیس اہلکار امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، مگر بھاری مشینری کی کمی کے باعث آپریشن بری طرح سست روی کا شکار ہے۔ اگام ضلع میں تین دیہاتوں کے تقریباً 80 افراد اب بھی ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں، جہاں زندہ بچ جانے والوں تک پہنچنا سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

آچے کا علاقہ بدترین متاثرہ ہے، جہاں لوگ بھاری مشینری نہ ہونے کے سبب ہاتھوں، بیلچوں اور چھوٹے اوزاروں کے ذریعے ملبہ ہٹا رہے ہیں۔ طبی سہولیات کی عدم دستیابی نے زندہ بچ جانے والوں کی حالت مزید نازک بنا دی ہے اور پہلی امداد، پینے کے صاف پانی اور ادویات کی شدید کمی رپورٹ کی جا رہی ہے۔

گورنر موزاکر مناف نے صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے 11 دسمبر تک ایمرجنسی نافذ کر دی ہے تاکہ طبی و ریسکیو وسائل کو فوری طور پر متاثرہ علاقوں تک پہنچایا جا سکے۔

علاقے میں تباہی پھیلانے والا طوفان اگرچہ تھم چکا ہے، تاہم اس کے بعد ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ نے بحران کو مزید گہرا کردیا ہے۔ انڈونیشیا کے ساتھ ساتھ سری لنکا، تھائی لینڈ اور ملائیشیا میں بھی ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں، اور مجموعی طور پر خطے میں ایک ہزار سے زائد اموات کی تصدیق ہوچکی ہے، جب کہ لاکھوں افراد صحت و زندگی کے شدید خطرات سے دوچار ہیں۔

  • ویب ڈیسک
  • دانیال عدنان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے