لاہور ہائیکورٹ نے شادی سے انکار پر لڑکی کو قتل کرنے کے کیس میں ملزم کی سزائے موت کو کالعدم قرار دے دیا۔
جسٹس شہرام سرور اور جسٹس سردار علی اکبر ڈوگر پر مشتمل بینچ نے ملزم کو بری کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کیا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ پراسکیوشن ملزم کے خلاف اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام رہی، اور مقتولہ کا پوسٹ مارٹم 7 گھنٹے تاخیر سے ہوا۔
ٹرائل کورٹ نے 2022 میں ملزم کو سزائے موت اور جرمانے کی سزا سنائی تھی، لیکن ہائیکورٹ نے شواہد کی کمی کے باعث یہ سزا کالعدم قرار دی۔
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ قانونی تقاضوں کی عدم تکمیل کی وجہ سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے، اس لیے ملزم کو بری کیا جانا مناسب ہے۔
