اسلام آباد: وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاری کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔
موجودہ مالی دباؤ، بڑھتے ہوئے اخراجات اور محصولات میں اضافے کی ضرورت کے پیش نظر حکومت اس بار بجٹ سازی کے عمل کو نسبتاً پہلے مرحلے میں شروع کر چکی ہے۔اس سلسلے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اپنے تمام ذیلی اور فیلڈ اداروں کو متحرک کرتے ہوئے ٹیکس سے متعلق تجاویز طلب کر لی ہیں۔
ذرائع کے حوالے سے نجی ٹی وی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایف بی آر نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ ملک بھر کی تمام فیلڈ فارمیشنز 10 فروری 2026 تک اپنی سفارشات اور تجاویز ارسال کریں۔ ان تجاویز کا بنیادی مقصد ٹیکس ریونیو میں اضافہ، محصولات کے نظام کو مؤثر بنانا اور قانونی و انتظامی خامیوں کو دور کرنا ہے۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ بجٹ 2026-27 میں محصولات کے اہداف غیر معمولی طور پر اہم ہوں گے کیونکہ حکومت کو نہ صرف اندرونی اخراجات پورے کرنے ہیں بلکہ قرضوں اور مالی ذمہ داریوں کا دباؤ بھی بدستور برقرار ہے۔
اس حوالے سے ایف بی آر کی جانب سے چیف کلیکٹرز آف کسٹمز اور تمام ڈائریکٹر جنرلز کو باقاعدہ مراسلے ارسال کیے گئے ہیں، جن میں انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کسٹمز سے متعلق جامع بجٹ تجاویز مرتب کریں۔ ان تجاویز میں کسٹمز قوانین، طریقہ کار اور بالخصوص کسٹمز ایکٹ 1969 میں ممکنہ ترامیم پر بھی تفصیلی غور کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کسٹمز کے شعبے میں اصلاحات کے بغیر ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا اور اسمگلنگ جیسے مسائل پر قابو پانا ممکن نہیں۔
مراسلے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ہر تجویز کے ساتھ اس کی معقول وجوہات اور ممکنہ مالی اثرات کی وضاحت لازمی ہو گی، تاکہ پالیسی ساز ان سفارشات کا عملی اور معاشی جائزہ لے سکیں۔
ایف بی آر کے مطابق محض ٹیکس کی شرح میں اضافہ مسئلے کا حل نہیں بلکہ نظام کو سادہ، شفاف اور مؤثر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی سوچ کے تحت بجٹ تجاویز میں انتظامی اصلاحات اور قوانین میں بہتری کو بھی مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے۔
چیف کلیکٹرز اور ڈائریکٹر جنرلز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی اپنی فیلڈ فارمیشنز سے موصول ہونے والی تجاویز کو یکجا کرکے ایک جامع دستاویز کی صورت میں ایف بی آر کو ای میل کے ذریعے ارسال کریں، جس کے بعد اس کی ہارڈ کاپی بھی بھجوانا ضروری ہوگا۔
اس پورے عمل کو منظم بنانے کے لیے ایف بی آر نے مخصوص فارمیٹس اور انیکس بھی فراہم کیے ہیں، جنہیں صرف ایم ایس ورڈ میں مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کسی اور فارمیٹ میں بھیجی گئی تجاویز قابلِ قبول نہیں ہوں گی۔
ایف بی آر نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ تجاویز مرتب کرنے سے قبل کسٹمز ایکٹ 1969 اور موجودہ قواعد و ضوابط کا باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے اور متعلقہ ماہرین سے مشاورت بھی کی جائے تاکہ دی جانے والی سفارشات عملی، قابلِ نفاذ اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہوں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس بار بجٹ سازی کے عمل میں تکنیکی پہلوؤں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں بار بار ترامیم کی ضرورت پیش نہ آئے۔
