اسلام آباد: نجکاری کمیشن آج منگل کے روزپاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی) کی نجکاری کا عمل شروع کرنے جارہاہے۔
فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ کے نیلامی کے عمل سے نکلنے کے بعد اب صرف تین بولی دہندگان مقابلے میں رہ گئے۔
نجکاری کمیشن کی جانب سے جاری پروگرام کے مطابق نیلامی کی بولیاں صبح 10 بج کر 45 منٹ سے 11 بج کر 15 منٹ تک لگائی جائیں گی، جبکہ سہ پہر 3 بج کر 30 منٹ پر بولیاں کھولی جائیں گی۔
حکومت کے فیصلے کے مطابق اس عمل کو ٹی وی نیٹ ورکس پر براہِ راست دکھایا جائے گا ،باقی رہ جانے والے تین بولی دہندگان میں ایک کنسورشیم جس میں لکی سیمنٹ لمیٹڈ، حب پاور ہولڈنگز لمیٹڈ، کوہاٹ سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ اور میٹرو وینچرز پرائیوٹ لمیٹڈ شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایک کنسورشیم جس میں عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ، فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ، سٹی اسکولز پرائیوٹ لمیٹڈ اور لیک سٹی ہولڈنگز پرائیوٹ لمیٹڈ شامل ہیں اور تیسرا کنسورشیم ایئر بلیو پرائیویٹ لمیٹڈ ہے ۔
نجکاری کمیشن کے چیئرمین اور وزیر اعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ نے پی آئی اے کی بولی کے عمل سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ منگل کو بولیاں جمع ہونے کے بعد انہیں ایک شفاف باکس میں رکھا جائے گا، جس کے بعد نجکاری کمیشن کا بورڈ اجلاس کر کے ریفرنس قیمت مقرر کرے گا۔
اس کے بعد کابینہ کمیٹی برائے نجکاری ریفرنس قیمت کی منظوری دے گی، جو بولیاں کھولنے کے وقت اعلان کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ اگر بولیاں ریفرنس قیمت سے زیادہ ہوئیں تو کھلی نیلامی ہوگی، جبکہ اگر بولیاں ریفرنس قیمت سے کم ہوئیں تو سب سے زیادہ بولی لگانے والے کو ترجیح دی جائے گی۔
اگلے مرحلے کے بارے میں مشیر نے کہا کہ وفاقی کابینہ چند دنوں میں اس لین دین کی منظوری دے گی، جس کے بعد بولی دہندگان سے موصول ہونے والی دستاویزات پر دستخط کیے جائیں گے ۔
دستخط کے بعد نجکاری کمیشن کے پاس 90 دن ہوں گے جن میں جائیدادوں، واجبات اور لیز پر لیے گئے طیاروں کی منتقلی سمیت دیگر امور مکمل کیے جائیں گے ۔
لین دین کے طریقہ کار کے مطابق بولی پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی بنیاد پر ہوگی 75 فیصد حصص کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا 92.5 فیصد پی آئی اے کو ملے گا، جبکہ صرف 7.5 فیصد قومی خزانے میں جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے کے 25 فیصد حصص حکومت کے پاس رہیں گے، جو ایک قیمتی اثاثہ ہوں گے۔تاہم کامیاب بولی دہندہ کو اختیار ہوگا کہ وہ ادائیگی کے بعد باقی 25 فیصد حصص خرید لے یا انہیں حکومت کے پاس ہی رہنے دے۔
محمد علی کے مطابق باقی 25 فیصد حصص کی قدر کا تعین 75 فیصد حصص کے فیصلے کے بعد کیا جائے گا حکومت نے بولی دہندگان کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ 12 ماہ کے اندر 12 فیصد پریمیم کے ساتھ باقی حصص خریدنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں بولی دہندگان کو 75 فیصد حصص کے حوالے سے فیصلہ منگل کو کرنا ہوگا جبکہ باقی 25 فیصد حصص کی خریداری کےلیے 90 دن کے اندر فیصلہ کرنا ہوگا۔
