English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے کے لئے  عالمی قوانین سخت کرنے کی تیاری

القمر

دنیا بھر میں حکومتیں بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے پر غور کر رہی ہیں، جس کے ساتھ ہی یہ بحث بھی تیز ہو گئی ہے کہ کم عمر صارفین کے تحفظ کے لیے کون سا طریقہ زیادہ مؤثر ہے۔ کہیں سخت عمر کی حدیں تجویز کی جا رہی ہیں تو کہیں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی تجاویز سامنے آ رہی ہیں۔ ان اقدامات کی بنیادی وجہ بچوں کی ذہنی صحت، تعلیمی کارکردگی اور مجموعی فلاح و بہبود پر سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے منفی اثرات پر تشویش ہے۔

حالیہ تحقیقی رپورٹس کے مطابق مسئلے کی شدت کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا، ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 97 فیصد بچے اور نوجوان روزانہ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں جبکہ 78 فیصد کم از کم ہر گھنٹے میں ایک مرتبہ اپنا موبائل فون یا ڈیجیٹل ڈیوائس چیک کرتے ہیں،  ہر چار میں سے ایک کم عمر فرد میں اسمارٹ فون کے ایسے استعمال کے آثار پائے گئے ہیں جنہیں ماہرین نے مسئلہ پیدا کرنے والا یا  غیر صحت مند  قرار دیا ہے اور بعض صورتوں میں یہ رویہ نشے جیسا محسوس ہوتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال کلاس روم میں توجہ کی کمی، سیکھنے کے عمل میں رکاوٹ اور حقیقی زندگی میں رابطے کی صلاحیتوں کو کمزور کر دیتا ہے،  اسی تناظر میں اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے آن لائن تحفظ پر توجہ بڑھنے کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم اس نے خبردار کیا ہے کہ سخت پابندیاں سوچ سمجھ کر نافذ کی جانی چاہئیں۔

یونیسیف کے یورپ اور وسطی ایشیا کے لیے چائلڈ پروٹیکشن کے علاقائی مشیر ایرون گرین برگ کا کہنا ہے کہ بعض حالات میں سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے سے بچوں کو بہتر توجہ، سیکھنے اور آرام کا موقع مل سکتا ہے، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جان بوجھ کر اس انداز میں بنائے جاتے ہیں کہ وہ صارفین کو زیادہ سے زیادہ وقت تک مصروف رکھیں، جس کا اثر کچھ بچوں پر زیادہ شدید ہوتا ہے۔

یونیسیف کو اساتذہ، والدین اور خود طلبہ کی جانب سے بارہا یہ شکایات موصول ہوتی ہیں کہ بچے پڑھائی کے دوران فون چھوڑنے، کلاس میں توجہ دینے اور حتیٰ کہ رات کو بروقت سونے میں بھی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں تاہم گرین برگ نے خبردار کیا کہ صرف عمر کی پابندیاں عائد کرنے سے سوشل میڈیا کمپنیاں اپنی ذمہ داریوں سے بچ سکتی ہیں اور بچے غیر منظم یا غیر محفوظ آن لائن دنیا کی طرف دھکیل دیے جاتے ہیں۔

حالیہ مہینوں میں یورپی پارلیمنٹ نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی تجویز دی ہے، البتہ والدین کی اجازت سے رسائی ممکن ہو گی۔ یہ پیش رفت آسٹریلیا کے اس فیصلے کے بعد سامنے آئی ہے جہاں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر دنیا کی پہلی مکمل پابندی عائد کی گئی۔

یونیسیف کا مؤقف ہے کہ اگر عمر کی حدوں پر مبنی پالیسیاں بنائی جائیں تو ان کے ساتھ پلیٹ فارمز پر سخت ذمہ داریاں، رازداری کے مضبوط تحفظات، بچوں کی رائے کی شمولیت اور مختلف طبقات پر اثرات کی مسلسل نگرانی بھی لازمی ہونی چاہیے، تاکہ بچوں کے حقوق، سیکھنے اور نشوونما کا عمل متاثر نہ ہو۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے