English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مذاکرات ایک مسلسل عمل ہے، پاکستان کی میزبانی نے اعتماد سازی کی نئی بنیاد رکھی، ایرانی سفیر

القمر

اسلام آباد: پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کو ایک وقتی سرگرمی کے بجائے ایک مسلسل سفارتی عمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پیش رفت خطے میں دیرپا استحکام کے لیے بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کا مقصد صرف فوری نتائج حاصل کرنا نہیں بلکہ تمام فریقین کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک مضبوط اور قابلِ عمل فریم ورک تشکیل دینا ہے جو مستقبل میں مثبت پیش رفت کا ذریعہ بن سکے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں ایرانی سفیر نے کہا کہ اسلام آباد مذاکرات نے سفارتی سطح پر ایک ایسی بنیاد فراہم کی ہے جس کے ذریعے باہمی اعتماد کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ عمل اس وقت تک جاری رہنا چاہیے جب تک فریقین ایک ایسے معاہدے تک نہ پہنچ جائیں جو خطے کے امن اور استحکام کے لیے مؤثر ثابت ہو۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سنجیدہ سیاسی عزم کے بغیر کسی بھی سفارتی کوشش کے دیرپا نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

رضا امیری مقدم نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان نے مذاکرات کے انعقاد میں نہایت مثبت اور مخلصانہ کردار ادا کیا۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کو بھی سراہا اور کہا کہ ان کی کوششوں سے ایک ایسا ماحول فراہم کیا گیا جہاں دونوں فریقین اطمینان اور اعتماد کے ساتھ بات چیت کر سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار میزبان کے طور پر اپنی سفارتی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی سیکیورٹی اداروں، پولیس اور دیگر متعلقہ حکام نے مذاکرات کے دوران سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے جس کے باعث پورا عمل پرامن اور منظم انداز میں مکمل ہوا۔ مہمان وفود کو یکساں سہولیات فراہم کی گئیں اور ایک باوقار ماحول کو یقینی بنایا گیا، جو کسی بھی اہم سفارتی عمل کے لیے انتہائی ضروری ہوتا ہے۔

سفیر کا کہنا تھا کہ ایرانی وفد نے مذاکرات میں انتہائی سنجیدگی اور خود اعتمادی کے ساتھ شرکت کی اور قومی مفادات کے تحفظ کو اولین ترجیح دی۔ وفد نے عوامی توقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے نہایت متوازن اور باوقار انداز میں اپنا مؤقف پیش کیا، جس سے مستقبل کی بات چیت کے لیے مثبت راہیں ہموار ہوئیں۔

واضح رہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے ایران امریکا مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے تھے جبکہ امریکی وفد نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں شریک ہوا۔

دونوں ممالک کے درمیان طویل مذاکرات کے باوجود کوئی حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا، تاہم اسے ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ مذاکرات کے بعد ایرانی وفد 2 روزہ دورہ مکمل کرکے واپس روانہ ہوگیا جبکہ امریکی وفد اس سے قبل ہی اپنے ملک واپس جا چکا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے