وقت کے بےرحم ہاتھوں میں گھِری ہوئی بہت سی عورتیں ایک ایسی محبت کی اسیر ہو چکی ہیں جو محبت نہیں، ایک آہستہ آہستہ پھیلتا ہوا زہر ہے۔ ایک ایسا زہر جو چیختا نہیں، بلکہ خاموشی سے روح میں اترتا ہے، اور پھر وہیں اپنا گھر بنا لیتا ہے۔ جہاں درد کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک عادت بن جاتا ہے، جہاں اونچی آوازیں اور ٹوٹتے ہوئے لمحے قربت کی پہچان ٹھہرتے ہیں۔
ان کے لیے محبت اب کوئی نرم سا احساس نہیں رہی، بلکہ ایک بوجھ ہے، ایک تھکن ہے، ایک ایسا زخم ہے جو ہر روز تازہ ہوتا ہے اور پھر بھی بھرنے نہیں دیا جاتا۔ ان کی زندگی میں جب زندگی میں سکون اترتا ہے تو دل گھبرا جاتا ہے، جیسے کوئی کسی اجنبی جگہ آ گیا ہو۔ اور جب ہنگامہ پلٹ کر آتا ہے تو عجیب سی پہچان محسوس ہوتی ہے، جیسے یہی اصل تھا، یہی سچ تھا۔
کچھ عورتوں کے دلوں نے تو جیسے درد کو ہی محبت مان لیا ہے۔ سکون انہیں بےجان لگتا ہے، ٹھہراؤ انہیں ڈرا دیتا ہے، اور ایک ایسا مرد جو نرم ہو، مکمل ہو، اور اپنے اندر پُرسکون ہو، انہیں بے رنگ سا محسوس ہوتا ہے۔ جیسے وہ کہانی ہی نہ ہو جسے دل پڑھنا چاہتا ہے۔
اسی لیے اگر کوئی مرد کسی عورت کو کھونا چاہتا ہے تو اس سے سچی محبت کرے۔ اس کے سامنے سچ بن کر آئے، بغیر کسی کھیل کے، بغیر کسی فریب کے۔ ایک ایسا مرد بنے جو نہ ٹوٹا ہو، نہ ڈرا ہوا ہو، نہ اپنی موجودگی کو ہتھیار بناتا ہو۔ کیونکہ بہت سی عورتیں اب تک یہ سیکھ ہی نہیں سکیں کہ ایسے مرد کے ساتھ کیسے جیا جاتا ہے جو انہیں توڑتا نہیں، جو انہیں تڑپاتا نہیں، جو انہیں چھوڑ کر غائب نہیں ہوتا۔
لیکن اگر عورت کو ایک ایسا مرد دے دو جو کبھی قریب آئے اور کبھی دور چلا جائے، جو اپنی توجہ کے چند ٹکڑے اس کی جھولی میں ڈال کر اسے ترساتا رہے، تو دیکھنا وہ کس شدت سے اس کے پیچھے بھاگے گی۔ اس کا دل اس کی موجودگی سے نہیں، اس کی غیر موجودگی سے بندھ جائے گا۔
یا پھر اسے ایک ایسا مرد دے دو جو شک میں جکڑا ہوا ہو، جو اس کے ہر لمحے پر پہرہ دے، جو اس کی سانسوں تک کا حساب رکھے، تو وہ اسی گھٹن کو محبت سمجھنے لگے گی۔ وہ اسی بےچینی کو اپنے سینے سے لگا لے گی، جیسے یہی اس کی قسمت ہو۔
اسی لیے کچھ عورتیں شادی کے بعد بھی، بچوں کے بعد بھی، ایک بھرے ہوئے گھر کے بیچ بھی، اندر سے خالی رہتی ہیں۔ وہ کسی پرانے چہرے کی نہیں، ایک پرانے درد کی قیدی ہوتی ہیں۔ وہ محبت نہیں ہوتی جو ان کے ساتھ رہ جاتی ہے، وہ ایک زخم ہوتا ہے جو ان کے اندر ہمیشہ کے لیے بس جاتا ہے۔
زہریلے رشتے عجیب جادو کرتے ہیں۔ وہ دل کو محبت سے نہیں، درد سے جوڑ دیتے ہیں۔ وہ سکون کو اجنبی بنا دیتے ہیں، اور تحفظ کو بےرنگ۔ وہ یہ وہم پیدا کرتے ہیں کہ جو مرد نرم ہو، وہ محبت کرنا جانتا ہی نہیں۔
اور پھر ایک اور کہانی شروع ہوتی ہے، ایک ایسی کہانی جو محبت کے نام پر لکھی جاتی ہے، مگر اس کے لفظوں میں خاموشی کا خون شامل ہوتا ہے۔ یہ کہانی شادی کی ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایک عورت کو اس کی عزت،عفت اور عصمت کے نام پر پالا جاتا ہے۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ اس کی سب سے بڑی قیمت اس کی پاکیزگی ہے، اس کا غیر چھوا ہوا وجود ہے۔ وہ اپنی تمام جذباتی اور جسمانی خواہشات کو دفن کر دیتی ہے، اپنے خوابوں کو سلا دیتی ہے، اپنے جسم کو ایک امانت بنا کر رکھتی ہے، جیسے وہ خود اپنی نہیں، کسی اور کی ہو۔
وہ اپنی جوانی قربان کر دیتی ہے، اپنی مسکراہٹوں کو روک لیتی ہے، اپنی جسمانی اور جذباتی چاہتوں کو مار دیتی ہے۔ اور پھر ایک رات آتی ہے، ایک خاموش، بھاری رات، جہاں ایک مرد، جو اس کے لیے ابھی تک اجنبی تھا، اس کے وجود پر اپنا حق جتاتا ہے۔
ایک لمحہ، اور وہ خود کو فاتح سمجھ لیتا ہے۔
ایک لمحہ، اور اس کی پوری زندگی کی حفاظت، اس کی ساری قربانیاں، ایک بےآواز شکست میں بدل جاتی ہیں۔
اس سے اس کی عصمت اور پاکدامنی کا ثبوت مانگا جاتا ہے۔
اس سے سوال کیے جاتے ہیں۔
اور وہ مرد؟
اس سے کبھی کچھ نہیں پوچھا جاتا۔ کہ وہ آج تک کتنی عورتوں کے ساتھ سویا ہے۔
اور یہی مرد، اگلی صبح اس کا منصف بن جاتا ہے۔ اگر وہ اس کی ان کہی توقعات پر پوری نہ اترے، تو وہ اسے ٹھکرا بھی سکتا ہے، جیسے وہ کبھی اس کی تھی ہی نہیں۔
کیا کبھی کسی نے اس عورت سے پوچھا کہ اس نے کیا کھویا؟
کیا کبھی کسی مرد نے اس تمام عمر کی قربانی کے لیے اس کا شکریہ ادا کیا؟
نہیں۔ یہاں محبت نہیں، حق جتایا جاتا ہے۔ یہاں رشتہ نہیں، قبضہ ہوتا ہے۔
اور اگر وہ اس گھر میں رہ بھی جائے، تو وہ گھر اس کا نہیں ہوتا۔ وہ دیواروں کے بیچ ایک سایہ بن جاتی ہے۔ اسے حکم دیا جاتا ہے، جھکنے کو، ماننے کو، خود کو مٹانے کو۔ اس کی آواز کہیں گم ہو جاتی ہے، اس کی مرضی ایک رسم بن جاتی ہے۔
لوگ کہتے ہیں، شادی کے بعد عورت محفوظ ہو جاتی ہے۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ وہیں سب سے زیادہ تنہا ہوتی ہے۔
اس کے دل میں خوف ہوتا ہے، اس کی آنکھوں میں سوال، اس کی سانسوں میں ایک انجانی گھٹن۔ اگر مرد اچھا نہ ہو، تو اس کی زندگی دھمکیوں میں بدل جاتی ہے، طلاق کا خوف، بےعزتی کا ڈر، چھوڑ دیے جانے کا اندیشہ۔
وہ سب کی ہوتی ہے، مگر کسی کی نہیں ہوتی۔
اور پھر اسے یاد آتا ہے، اپنے باپ کا گھر۔
وہ گھر جہاں وہ آزاد تھی۔
جہاں وہ ہنس سکتی تھی، رو سکتی تھی، غلطی کر سکتی تھی۔
جہاں محبت شرطوں پر نہیں ملتی تھی۔
اسی یاد اور اس حقیقت کے بیچ ایک سچ جنم لیتا ہے، ایک خاموش، مگر گہرا سچ۔
ایک عورت کو چاہیے کہ وہ اس مرد کو چنے جس کے ساتھ اس کا دل پرسکون ہو، نہ کہ اس کے ساتھ جسے دنیا اس پر مسلط کرے۔ وہ مرد جو اس کے جذبات کو تھامے، نہ کہ اس کے جسم پر پہرہ دے۔ جس کے ساتھ وہ سمٹے نہیں، بلکہ پھیل جائے، جیسے اندھیرے میں روشنی۔
ایسے مرد کے ساتھ، اسے جینا چاہیے، پوری شدت کے ساتھ، بغیر کسی معذرت کے۔ اسے اپنی خوشی واپس لینی چاہیے، اپنی خواہشات، اپنی قربت۔ کیونکہ اس کا جسم کبھی قید نہیں تھا، بلکہ ایک دنیا تھا، جسے جیا جانا تھا۔
وہ مرد ایسا ہو جس کے سینے سے لگ کر وہ ہنس سکے، جی بھر کر، اور رو بھی سکے، بغیر شرم کے۔ جس کے سامنے وہ اپنے خواب رکھ سکے، اپنے زخم کھول سکے، بغیر ڈر کے۔
اس کے ساتھ وہ بےفکر ہو جائے، جیسے دنیا کا بوجھ اس کے کندھوں سے اتر گیا ہو۔ اس کے ساتھ اس کی قربت خوف نہ ہو، بلکہ فخر ہو۔ اس کا وجود شرمندگی نہیں، ایک خاموش وقار ہو۔
اور پھر بھی، اس سب سے آگے، ایک دنیا ہے۔
ایک دنیا جو اس کا انتظار کر رہی ہے۔
جہاں وہ کتابوں میں کھو سکتی ہے، جہاں وہ اپنے خوابوں میں سفر کر سکتی ہے، جہاں موسیقی اس کے درد کو سمجھتی ہے، جہاں حسن بے ظلم ہوتا ہے۔
وہ اپنے دائرے کو چھوٹا رکھے، اپنی ذات کو قیمتی سمجھے، اور خاموش بغاوت کے ساتھ جئے۔
اور کم از کم ایک بار، وہ محبت کرے۔
ایسی محبت جو خوف سے آزاد ہو، جو حساب سے پاک ہو، جو کھونے کے ڈر سے کمزور نہ ہو۔
اور اگر وہ ایسی محبت کی یاد میں کھو جائے،
تو وہ ادھورا سا درد بھی ایک مکمل زندگی بن سکتا ہے۔
کیونکہ ایک عورت، جس نے صرف زخم جھیلے ہوں،
اس کے لیے بے داغ محبت صرف ایک احساس نہیں،
ایک انقلاب ہوتی ہے۔
