لاہور: مہنگائی 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، سبزیوں کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافہ، انڈے، دودھ، گوشت اور دالیں بھی مہنگی ہونے سے حکومت کے مہنگائی کے تمام تخمینے غلط ثابت۔
وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کر دی۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مارچ کے مقابلے اپریل میں مہنگائی کی شرح میں 2.48 فیصد اضافہ ہوا۔
ماہانہ رپورٹ کے مطابق اپریل 2026ءمیں مہنگائی کی سالانہ شرح 10.89 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ وزارت خزانہ نے اپریل کےلیے مہنگائی کا تخمینہ 8 سے 9 فیصد لگایا تھا۔
رپورٹ کے مطابق جولائی 2025ءسے اپریل 2026ءتک اوسطً مہنگائی6.19 فیصد رہی جبکہ مارچ 2026 میں سالانہ مہنگائی کی شرح 7.30 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔
وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ سال اپریل میں مہنگائی کی سالانہ شرح 0.3 فیصد تھی۔
ماہانہ رپورٹ کے مطابق دیہی علاقوں میں ماہانہ بنیاد پر مہنگائی 2.9 فیصد بڑھی جبکہ شہری علاقوں میں اپریل کے دوران مہنگائی میں 2.75 فیصد اضافہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق دیہی علاقوں میں سالانہ مہنگائی 10.56 فیصد رہی۔ شہروں میں سالانہ مہنگائی کی شرح 11.11 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سالانہ بنیاد پر ٹرانسپورٹ کرائے 30 فیصد تک بڑھ گئے۔
ایک سال میں خوراک کی قیمتوں میں 7.63 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، جلد خراب ہونے والی کھانے پینے کی اشیا 10.20 فیصد، ایک سال میں ہاو ¿سنگ، پانی، بجلی اور گیس 16.84 فیصد، کپڑے اور جوتے سالانہ بنیاد پر 6.20 فیصد مہنگے ہوگئے ہیں اور سالانہ بنیاد پر ہوٹل ریسٹورنٹ چارجز میں 5.28 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اپریل میں ٹماٹر کی قیمت میں 57 فیصد سے زیادہ، سبزیوں کی قیمتیں 40 فیصد تک بڑھ گئیں، انڈے 14 فیصد، پیاز 9 فیصد اور آلو 4 فیصد مہنگے ہوئے، دودھ اور دودھ سے بنی اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
چکن اور گوشت کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا، چاول، دال ماش اور بیکری آئٹمز بھی مہنگے ہو گئے۔ علاوہ ازیں ایل پی جی کی قیمت میں 38 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، ٹرانسپورٹ سروسز 27 فیصد اور پیٹرولیم مصنوعات 18 فیصد مہنگی ہوئیں، کرایوں اور تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔