
ہمارے وزیراعظم عمران خان کے مطابق پاکستان میں معاشی استحکا م آ گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بیروزگاری کا خاتمہ حکومت کا اگلا ہدف ہو گا۔ملک میں سرمایہ کاری آ رہی ہے۔ ابھی حال ہی میں ایک معاہدے کے تحت چین کی کمپنی پاکستان میں ٹائر سازی کرے گی۔معاہدہ طے پا گیا ہے۔ پاکستان کا کثیر زرمبادلہ ٹائروں کی درآمد پر خرچ ہوتا ہے۔اس لحاظ سے اس منصوبے کو پاکستان کے لئے بہت بڑی کامیابی کہا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ تائر سازی کی صنعت سے ہزارون افراد کیلئے روزگار کے ذرائع پیدا ہوں گے۔ٹیکس نظام میں بہتری کیلئے عوام نے ہمیشہ حکومت کے ہر ادارے کے ساتھ تعاون کیا ہے۔ٹیکس والے محکمے بھی تو ایک سے زیادہ ہیں جسکی وجہ سے مشکلات عوام کے لئے ہوتی ہیں ان میں کمی اور آسانی پیدا کرنا اور قابل عمل پالیسی بنانا حکومت کا کام ہے۔ملک اور قوم کی صورتحال دیکھ کر قانون سازی کی جائے،روائتی طریقہ ٹیکس بدلا جائے تو بہت کم وقت میں مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ٹیکس سسٹم میں بہتری لانے کیلئے انگریز دور کے قوانین بدلنے میں کیا مشکل ہے۔ہماری پارلیمنٹ کو قانون سازی کرنی چاہئے اور ہمارے اداروں کو انھیں مثبت تجاویز دینی چاہئیں۔ پنجاب میںزراعت کی بہتر کیلئے ایشین ترقیاتی بنکADBنے 25 لاکھ ڈالر کی تکنیکی گرانٹ دی ہے۔اس کا مثبت استعمال کر کے پاکستان میں زراعت کی پیدا وار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے.زرعی پیداوار میں ہمیں شدید مشکلات درپیش ہیں۔ٹماٹر، آلو، پیاز اور ادرک جیسی ہر وقت اور ہر گھر کے استعمال کی اشیاء کی قیمتوںکا حد سے بہت زیادہ بڑھنا عوام کئلیے شدید مشکلات پیدا کرتا ہے۔ ہمیں ان مسائل کا حل مستقل بنیادوں پر کیسے تلاش کرنا ہے۔یہ کوئی مشکل کام نہیں نہیں جو لو گ زراعت کے شعبہ سے وابستہ ہیں ان کو سہولیات کی فراہمی میں تاخیرنہ کی جائے اور روز مرہ استعمال کی پیداوار والی سبزیاں فروٹ اور اناج کی کاشت پر ہنگامی بنیافوں پر توجہ دی جائے۔یہ بہت اچھی بات ہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے گندم کی قیمت میںاضافہ کر دیا ہے جس کا مقصد کسان کو فائدہ دینا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا واقعی ہمارا کسان جو سارا سال مشقت کر کے فصل اگاتا اور اٹھاتا ہے اس کو فائدہ ہو گا اور اس کا عوام پر اثر تو نہیںپڑے گا کہ آٹے کی قیمتیں جو پہلے ہی زیادہ ہیں اور بڑھ جائیں گی۔روٹی پہلے ہی مہنگی ہو چکی ہے۔گذشتہ روزبلوچستان میں روٹی چالیس روپے میں فروخت ہو رہی تھی۔یہ مہنگائی کی بد ترین مثال ہے جسے کنٹرول کرنا حکومت کا کام ہے۔ ہمارے ملک میں یوٹیلٹی سٹور پر عوام کا بہت اعتماد تھا کہ سرکاری سرپرستی میں چلنے والے یہ مراکز مناسب قیمت پر روز مرہ استعمال کی اشیاء مہیا کر رہے تھے لیکن اب دیکھتے ہیں کہ یہ نیٹ ورک بیکار ہو چکا ہے۔حکومت اس جانب سنجیدگی کے ساتھ توجہ کیوں نہیں دیتی کہ مہنگائی کنٹرول میں رہے؟ابھی اقتصادی رابطہ کمیٹی یوٹیلٹی سٹورز کی بحا لی کیلئے 6 ارب روپے کی گرانٹ دے رہی ہے۔ اس اقدام سے اس میں کتنی بہتری آئے گی یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔ ملک بھر میں ابھی بھی گیس اور بجلی کی سہولتوں کا فقدان ہے۔اس جانب حکومت کی توجہ تو ہے لیکن کام نہیں ہو رہا کیاہے۔حکومت کے لئے سب سے اہم کام ملک کی تباہ حال معیشت اور لوگون کے گرتے ہوئے معیار زندگی کو سنبھالا دینا ہے۔ملک میں روزگار کے زیادہ سے زیادہ ذرائع پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں حکومت کو چاہئے زراعت کے شعبے پر ہنگامی بنیادوں پ توجہ دے اور جو لوگ شعبہ زراعت سے وابستہ ہیں لیکن ان کی زمینیں بنجر ہو گئی ہیں ان کی آباد کاری کی جائے۔ یہ صھورتحال بہت افسوسناک ہے کہ ملک بھر میں مہنگائی کے ساتھ بیروزگاری حد سے تجاوز کر گئی ہے۔ سابق وزیراعظم کی بیماری پر کسی بھی سیاست نہیں کرنی چاہئے۔یہ خالصتا ایک انسانی ہمدردی اور صحت کا مسئلہ ہے اس میں تاخیر سنگین غلطی ہو گی۔نواز شریف سے بیرون ملک علاج کیلئے جانے سے پہلے 7 ارب روپے کی ضمات مانگنے کا بنیادی مقصد کیا ہے جب کہ قانونی حلقے اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ کیا سابق وزیراعظم کی بیماری پر سیاست ہوتی رہے گی یا انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر انھیں فوری طور پر بیرون ملک بھیج دیاجائے گا۔سیاستدانوں، قانون دانوں اور سماجی شخصیات کی اکثریت کا کہنا ہے کہ عمران خان کو اس قسم کی سیاست میں الجھنے کی بجائے دوقدم آگے بڑھنا چاہئے۔
(۔نعیم صدیقی۔۔چیئرمین، ایفروایشیا فورم)
