چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہرمن اللہ نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت عام قیدی کی بیماری کا کیس بھی نواز شریف کی طرح سنے گی۔
تفصیلات کے مطابق جیف جسٹس اسلا م آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں عام آدمی اور قیدیوں کے مسائل پر بات نہیں کی جاتی، ہم صرف اشرفیہ کے مسائل پر بات کرتے ہیں،عدالت نے عام قیدیوں کے مسائل پر بات کرنا اپنی ذمہ داری سمجھا اور اتفاق ہے کہ ایسا ایک ہائی پروفائل کیس میں ہوا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا جب کسی قیدی کی جان کو خطرہ لاحق ہوگا تو عدالت کیس کی سماعت کے لیے بیٹھے گی اور چیف جسٹس 24 گھنٹوں میں اس کے قابل سماعت ہونے کا فیصلہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ صرف نواز شریف کیس کے لیے نہیں بلکہ ہر اس قیدی کے لیے ہے جو سزا یافتہ ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ نیب کے طلب کرنے پرمعاشرے کا ذہن بن جاتا ہے کہ یہ شخص کرپٹ ہے اور میڈیا کی طاقت یہ ہے کہ وہ کسی کی زندگی بنا بھی سکتا ہے اور تباہ بھی کر سکتا ہے۔

