English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

توانائی بحران کا حل سندھ کے پاس ہے، مراد علی شاہ

القمر

 

کراچی (نمائندہ جسارت)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہاہے کہ قوم کے توانائی کے بحران کا حل سندھ کے پاس ہے اور میں اسے ثابت بھی کروں گا۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے الیکٹریفکیشن اورگیسیفیکیشن کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے محکمہ انرجی کو ہدایت کی کہ وہ گیس اور بجلی کی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو دیے
گئے کام کی رفتار کو تیز کرائیں تاکہ حکومت کی جانب سے کرائے جانے والے کاموں کے ثمرات سے لوگ مستفیض ہوسکیں۔اجلاس میں وزیر توانائی امتیاز شیخ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکرٹری ساجد جمال ابڑو، سیکرٹری توانائی مصدق خان، سیکرٹری خزانہ حسن نقوی اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ دیہات کو بجلی کی فراہمی کا کام اے ڈی پی کے تحت کرایا گیا ہے اور اس میں جن دیہات کی آبادی100 نفوس یا اس سے زاید پر مشتمل ہے اور گائوں کا فاصلہ موجودہ 11 کے وی ہائی ٹیشن لائن سے زیادہ سے زیادہ 4 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے کو بجلی فراہم کرنا ہے۔ صوبائی وزیر انرجی امتیاز شیخ نے اجلاس کو بتایا کہ 11.2 بلین روپے کی لاگت سے جون 2008ء سے جون 2018 ء تک 8514 دیہات کو بجلی کی فراہمی کا کام شروع کردیاگیا تھاجس میں سے 7749 دیہات کو اب تک بجلی فراہم کردی گئی ہے جبکہ765 دیہات کو بجلی کی فراہمی کا کام جاری ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ حیسکو نے 4832 دیہات کو بجلی کی فراہمی کا کام مکمل کرلیاہے اور 466 یہات کو بجلی کی فراہمی کا کام جاری ہے۔سیپکو کو 2967 دیہات کو بجلی فراہم کرنا تھی اس میں سے اس نے 2669 دیہات کو بجلی کی فراہمی کا کام مکمل کرلیا ہے جبکہ باقی ماندہ298 دیہات کو بجلی کی فراہمی کا کاجاری ہے۔کے الیکٹرک کو 248دیہات کو بجلی کی فراہمی کا کام تفویض کیاگیا تھا، ان میں سے کے الیکٹرک نے 247 دیہات کا کام مکمل کرلیا ہے جبکہ ایک اسکیم میں زمین کا مسئلہ تھا جسے حل کیا جارہاہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے صوبائی وزیر انرجی امتیاز شیخ کو ہدایت کی کہ وہ پاور ڈسٹریبیوشن کمپنیوں کے ساتھ اجلاس منعقد کریں اور ان پر زور دیں کہ وہ ترجیحی بنیادوں پر کام مکمل کریں،یہ تعجب کی بات ہے کہ باقی ماندہ اسکیمیوں پر گزشتہ ایک سال سے کام ہورہاہے۔انہوں نے کہا کہ کام کی رفتار کو تیز کیاجائے تاکہ انہیں مکمل کیا جاسکے۔وزیراعلیٰ کو بتایاگیاکہ ایس ایس جی سی کو 957 دیہات کی گیسیفیکیشن کے لیے 6.5 ارب روپے دیے گئے تھے،ایس ایس جی سی نے 845 دیہات کو گیس فراہم کی ہے اور باقی ماندہ116اسکیمیوں پر کام روک دیا گیاہے۔وزیر اعلیٰ نے گیسیفیکیشن کے کام کو روکنے کا سختی سے نوٹس لیا اور محکمہ انرجی اور خزانہ کوہدایت کی کہ وہ ایس ایس جی سی اتھارٹیز کے ساتھ اجلاس منعقد کریں اور ان کے ساتھ اسکیمیں اور ان کے اخراجات ایک ہفتے کے اندر ری کنسائل کریں اور انہیں رپورٹ دیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ موسم سرما شروع ہوچکا ہے اور دیہات میں رہنے والے لوگ قدرتی گیس کے بغیر رہ رہے ہیں باوجود اس کے کہ ان کی حکومت نے گیسیفیکیشن کے لیے ایس ایس جی سی کو ادائیگی کردی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ناقابل قبول ہے لہٰذا ری کنسائل کا کام ایک ہفتے کے اندر ہونا چاہیے تاکہ آئندہ 2 ماہ کے اندر گیفسیفیکیشن کا کام مکمل ہوسکے۔صوبائی وزیر انرجی امتیاز شیخ نے وزیر اعلیٰ کو بتایاکہ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کو اپنی گرڈ کمپنی شروع کرنے کا لائسنس جاری کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کمپنی کو شروع کرنے کے لیے ہر چیز تیار ہے۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ انرجی کو ہدایت کی کہ وہ گرڈ کمپنی کو چلانے اور اس کے بزنس پلان کے حوالے سے ایک تفصیلی پلان انہیں فراہم کریں۔انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کے لوگوں کو کوئلے کی کان کنی/ونڈ پاورسے بجلی کی پیداوار سے لے کرصوبائی حکومت کی ٹرانسمشن اور ڈسپیچ کمپنی کے ذریعے اس کی ٹرانشمشن اور گرڈ کمپنی کے قیام کے حوالے سے ایک مکمل پیکیج دینا چاہتا ہوں۔ صوبائی وزیر نے وزیراعلیٰ کو یقین دلایا کہ وہ آئندہ ہفتے میں گرڈ کمپنی کا بزنس پلان پیش کردیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے