English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

خواتین اور بچوں کیلیے بنائے گئے قانون پر عملدرآمد نہیں ہورہا

القمر

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) سندھ کے سینئر صحافیوں اور سماجی رہنماؤں نے کہاکہ خواتین اور بچوں کے لیے قانون سازی ہوئی ہے لیکن قانون پر عمل نہیں ہورہا لڑکیا انصاف کے حقول میں اپنی عمر گزار چکی ہیں لیکن ان کو اب تک انصاف نہیں ملا ۔ان خیالات کااظہار انہوںنے سماجی تنظیم سافکو کی جانب سے مقامی ہوٹل میں پاکستان میں قانونی جائز اور اثر پذیر انصاف تک رسائی کے عنوان کے تحت منعقدہ ایوارڈ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عائشہ ابڑو نے کہاکہ صحافی ہمیشہ معاشرے کے مسائل کے حوالے سے لکھتے رہتے ہیں اس کے ساتھ انصاف تک رسائی کے لئے شروع کی گئی مہم ایک بہترین عمل ہے۔ سافکو کے چیف ایگزیکیٹو سروان بلوچ نے کہاکہ سافکو ایک سماجی تنظیم ہے چا سو سے زائد مختلف پروجیکٹس پر کام کررہی ہے اس وقت قانون اور انصاف تک رسائی والے پروجیکٹ کے تحت لوگوں میں شعور پیدا کررہی ہے وہ قانونی مراحل کے ذریعے متعلقہ اداروں سے انصاف کس طرح حاصل کرسکتے ہیں۔ پریس کلب کے لالہ رحمن سموں نے کہاکہ ہم انصاف کی بات تو کرتے ہیں کہ ہر ایک کو سستا انصاف ملنا چاہیے لیکن آنے والے وقت میں انصاف مزید مہنگا ہوتا دکھائی دے رہا ہے سب سے پہلے تو میڈیا کو پابند یاگیا ہے اور اب جمہوریت کی بقا اور انسانی حقوق کے لیے کردار ادا کرنے والے وکل برادری کے گرد بھی رسا کسا جارہاہے قانون کو ڈگری کو پانچ سال کا کرنے کے علاوہ مختلف اقدامات کے ذیعے یہ عمل جاری ہے۔ سینئر صحافی اقبال ملاح نے کہاکہ عورتوں ‘ بچوں اور غریب لوگوں کے لئے قانون سازی تو ہوئی ہے لیکن ان کو انصاف نہیں ملتا۔اس موقع پر سینئر صحافی مہیش کمار‘ عفان ہوتی‘ نادیہ لاڑک‘ گلبدین جاوید اور صالح منگی ودیگر نے بھی خطاب کیا۔ پروگرام کے دوران سینئر صحافیوں اقبال ملاح‘ ساجد علی خان اعجاز لغاری‘ خالد چانڈیو‘ مہش کمار‘ اسحق منگریو ‘ یوسف میر مہر ‘اعجاز میمن ودیگر کو سافکو کی جانب سے سالانہ ایوارڈ دیے گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے