English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پولیس افسران کے تبادلے وفاق اور سندھ حکومت میں ٹھن گئی

ایس ایس پی عمر کوٹ کو صوبہ بدر نہیں کرسکتے، چیف سیکریٹری نے تبادلے کی منسوخی کیلئے خط لکھ دیا
گورنر یا وفاق سمجھتا ہے کہ ہم اس سے ڈر جائیں تو اس کی بھول ہے، مرتضیٰ وہاب
کراچی (اسٹاف رپورٹر) تبادلوں کے معاملے پر سندھ حکومت اور وفاق میں ٹھن گئی اور تنازع پیدا ہوگیا ہے۔ سندھ حکومت نے ایس ایس پی عمر کوٹ کی خدمات واپس نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا جبکہ وفاق نے ایس ایس پی عمر کوٹ اعجاز شیخ کی خدمات واپس لے لی ہیں۔ سندھ حکومت نے وفاقی حکومت کے حکم پر ایس ایس پی عمر کوٹ کی خدمات واپس نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایس ایس پی اعجاز شیخ سندھ میں کام کرتے رہیں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ کے احکامات پر متعلقہ حکام نے اعجاز شیخ کو چارج نہ چھوڑنے کا حکم دیا جبکہ سندھ حکومت کی جانب سے چیف سیکرٹری سندھ نے وفاق کو ایس ایس پی اعجاز شیخ کا تبادلہ روکنے سے تحریری طور پر آگاہ کردیا۔ چیف سیکرٹری سندھ نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو اعجاز شیخ کے تبادلے کا نوٹیفکیشن منسوخ کرنے کے لیے لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ ایس ایس پی عمرکوٹ اعجاز شیخ کی ضرورت ہے، صوبہ بدر نہیں کیا جاسکتا، اہم ذمہ داری پر کام کر رہے ہیں، سندھ میں ویسے ہی پی ایس پی افسران کی کمی ہے اس لیے نوٹیفکیشن واپس لیا جائے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سندھ پولیس کے 2 افسران کے تبادلے کیے ہیں، جن میں ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان احمد خان کا ٹرانسفر پنجاب کر دیا گیا ہے جبکہ ایس ایس پی عمر کوٹ اعجاز شیخ کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ کے مشیر برائے قانون مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت پر صوبائی معاملات میں مداخلت کا الزام لگایا۔ سندھ اسمبلی میں صحافیوں سے گفتگو میں مرتضیٰ وہاب نے کہاکہ گورنر سندھ یا وفاقی حکومت سمجھتی ہے کہ ہم ڈر جائیں گے تو یہ اس کی بھول ہے۔ ایک سیاسی رہنما کے کہنے پر ایک پولیس افسر کو اسلام آباد بلا لیا گیا۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آئین پڑھ لیں، آپ کو وزیراعلیٰ کی بات سننا ہے نہ کہ کسی وفاقی وزیر کی۔ انہوں نے کہاکہ ہم کہتے تھے کہ وفاق سندھ کے معاملات میں بے جا مداخلت کر رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے