نئی دہلی/واشنگٹن ( مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں شدید احتجاج کے باوجود دونوں ایوانوں سے منظور ہونے والے مسلم مخالف شہریت ترمیمی بل’ پر صدر رام ناتھ کووند نے دستخط کر دیے ہیں جس کے بعد یہ بل باقاعدہ طور پر قانون کا درجہ اختیار کر گیا ہے۔صدر نے توثیق کے دستخط ایسے وقت میں کیے ہیں جب اس قانون کے خلاف بھارت کے کئی شہروں میں مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ جمعرات 12دسمبر کو ہونے والے مظاہروں میں 2افراد پولیس کارروائی میں مارے گئے اور ایک درجن کے قریب زخمی ہوئے۔ ادھر جاپان کے وزیراعظم شینزو آبے نے سیکورٹی کی مخدوش صورت حال پر بھارت کا دورہ ملتوی کر دیا ہے۔ اس پیش رفت کی بھارتی وزارت خارجہ نے بھی تصدیق کر دی ہے۔ دوسری جانب بھارتی صدر کی جانب سے متنازع شہریت ترمیمی بل کی منظوری کے بعد سیکڑوں افراد نے بھارتی ریاست آسام کے شہر گوہاٹی میں اجتماعی بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔اس بھوک ہڑتال کی کال آل آسام اسٹوڈنٹس یونین (اے اے ایس یو) کی جانب سے دی گئی ہے تاہم اس میں دیگر کئی اور تنظیموں کے افراد بھی شامل ہیں۔ بھوک ہڑتال کی قیادت طلبہ یونین کے سربراہ سمودجل بھٹہ چاریہ کر رہے ہیں۔انہوں نے رپورٹروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’صدر آئین کے پاسبان ہیں، ہمیں امید تھی کہ وہ آئینی شقوں کا خیال رکھتے ہوئے اس بل کو منظور نہیں کریں گے لیکن انہوں نے رات ہی کواس متنازع بل کی منظوری دے دی۔ ہمیں اس پر دکھ ہے۔دوسری جانب آسام کے وزیر اعلیٰ سربانند سونووال نے کہا ہے کہ ان کی حکومت شہریت ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والے مظاہرین سے بات کرنے کے لیے تیار ہے۔ ادھر امریکا کا کہنا ہے کہ بھارت میں شہریت سے متعلق قوانین میں حالیہ ترامیم کو باریکی سے دیکھا جا رہا ہے اور بھارت مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت کو اپنی جمہوری اقدار اور آئین کی پاسداری کا لحاظ کرتے ہوئے اقلیتوں کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔
