کراچی(اسٹاف رپورٹر ) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہمیں پولیو کے موذی مرض کے خلاف باقاعدہ جنگ لڑنی ہے،اس مرتبہ قطرے پلانے سے انکار کو برداشت نہیں کیاجائے گا۔ انہوں نے یہ بات پیر کوجنت گل اسپتال یوسی 4 گڈاپ میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر 5 روزہ پولیو کے خاتمے کی مہم کا افتتاح کرنے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی بھی انکے ہمراہ تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 16 دسمبرکو ہمارے معصوم بچے آرمی پبلک اسکول پشاور میں جاں بحق ہوئے۔ میں ان جاں بحق ہونے والے بچوں کے لیے دعا کرتا ہوں اور اللہ پاک ان
کے والدین کو صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ گزشتہ سال 2018ء میں پولیو کے 2 کیسز رپورٹ ہوئے مگر اس سال ہمارے لیے صورتحال گھمبیر ثابت ہوئی اور سندھ میں 16 کیسز رپورٹ ہوئے۔ یہ نئے کیسز افغانستان، پشاور اور بلوچستان سے آنے والے لوگوں کے باعث ہوئے ہیں مگر میں کوئی عذر پیش نہیں کرنا چاہوں گا کیونکہ سندھ میں آنے والا ہر بچہ ہمارا بچہ ہے اور ہمیں اس کی نگہداشت کرنی ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ 6 ماہ کے وقفے کے بعد یہ نئی مہم آج16 دسمبر تا 20 دسمبر شروع کی جارہی ہے اور ہماری یہ ہر ممکن کوشش ہوگی کہ ہم تمام 5 سال سے کم عمر 9087234 بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف حاصل کریں۔ ایک سوال کے جواب میں مراد علی شاہ نے کہا کہ اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے تمام منتخب نمائندوںیونین کونسل تا صوبائی اسمبلی کے اراکین کو اس مہم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ علاوہ ازیں وزیر اعلیٰ سندھ سے پیر کو وزیراعلیٰ ہائوس میں درگاہ حضرت بابا فرید گنج شکر پاکپتن کے سجادہ نشین دیوان عثمان فرید چشتی نے ملاقات کی ،دوران ملاقات میں پورے ملک خاص طور پر سندھ کی خوشحالی ، ترقی اور آصف زرداری کی صحت کے لیے بھی دعا کی گئی۔ دیوان عثمان فرید چشتی نے سید مراد علی شاہ کو بابا فرید گنج شکر درگاہ کے تحائف دیے جبکہ انہوں نے بابا فرید گنج شکر کی درگاہ کے تحائف چیئرمین بلاول زرداری کے لیے بھی پیش کیے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوفی ازم مختلف مذاہب اور فرقوں کے لوگوں کو جوڑتا ہے۔ سجادہ نشین نے وزیراعلیٰ سندھ کو پاکپتن کے دورے کی دعوت دی جومراد علی شاہ نے قبول کی۔
