نئی دہلی ( مانیٹرنگ ڈیسک +خبرایجنسیاں) بھارتی عدالت عظمیٰ نیمسلم مخالف شہریت کے متنازع قانون کا نفاذ فوری طور پر روکنے سے انکار کردیا۔ مذکورہ قانون کے خلاف 60 درخواستوں پر سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا اور کہا کہ وہ آئندہ سماعت پر اپنا مؤقف پیش کرے۔ درخواست گزاروں نے شہریت سے متعلق نئے قانون کو غیر آئینی قرار دیا ہے اور اس کے نفاذ کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔عدالت نے کیس کی سماعت 22 جنوری تک ملتوی کردی۔علاوہ ازیں بھارت میں شہریت سے متعلق متنازع قانون کیخلاف احتجاج شہر شہر پھیل گیا ہے۔نئی دہلی ان احتجاجی مظاہروں کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں بدھ کو بھی مشتعلمظاہرین کی جانب سے بسوں میں تھوڑ پھوڑ اور پولیس پر پتھراؤ کیا گیا جب کہ پولیس چوکی اور موٹر سائیکلوں کو بھی آگ لگا دی گئی۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی دہلی میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں 12 پولیس اہلکار سمیت 21 افراد زخمی ہوئے۔شہریوں کو مظاہروں سے باز رکھنے کے لیے شمال مشرقی علاقے میں دفعہ 144 نافذ کرکے سڑکوں پر پولیس کا گشت بڑھادیا گیا ہے۔مختلف تنظیموں نے جمعرات کو ملک گیر احتجاج کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔ نئی دہلی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں پولیس کی غنڈہ گردی بھی جاری ہے، رہائشی عمارت پر براہ راست فائرنگ اور پتھراؤ کی وڈیو سامنے آ گئی ہے۔انتہا پسند جماعت آر ایس ایس کے غنڈہ عناصر احتجاج میں شرکت کرنے والے مسلمان طالب علم کو ڈراتے دھمکاتے نظر آئے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زخمی طالب علم کا کہنا ہے کہ پولیس نے کلمہ پڑھنے کا کہا جیسے ہمیں جان سے ہی ماردے گی۔مظاہرے میں شرکت کرنے پر اداکار سوشانت سنگھ کو ٹی وی شو کی میزبانی سے ہٹادیا گیا،،سوشانت نے کہا اگر یہ سچ بولنے کی قیمت ہے تو بہت معمولی ہے۔متنازع قانون کیخلاف ریاست بہار میں بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی اور علاقہ انقلاب اور آزادی کے نعروں سے گونج اٹھا۔ریاست کیرالہ میں بھی متنازع قانون کیخلاف ہزاروں کی تعداد میں شہری سڑکوں پر نکلے اور احتجاج کیا۔دوسری جانب کلکتہ اور تامل ناڈو میں بھی ہزاروں افراد متنازع قانون کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے جس کے نتیجے میں مظاہرین کی پولیس سے جھڑپیں ہوئیں۔بھارتی ریاست آسام کے چند علاقوں سے کرفیو اٹھا لیا گیا تاہم موبائل انٹر نیٹ سروس بدستور بند ہے۔علاوہ ازیں شہریت کے متنازع قانون پر سوشل میڈیا پر پوسٹ کے الزام میں 113 افراد کو بھارتی پولیس نے گرفتار کر لیا۔
