لاہور (آئی این پی) امیر جماعت اسلامی صوبہ وسطی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ اداروں کی آپس میں چپقلش ملک و قوم کے لیے انتہائی نقصان کا باعث ہوسکتی ہے۔ تمام ادارے اپنے آئینی و قانونی حدود کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کام کریں۔ قانون کی بالادستی اور احترام سے ہی ملک دنیا میں آگے بڑھ سکتا ہے۔ کوئی بھی مقدس گائے قانون سے بالاتر نہیں ہونی چاہیے۔ موجودہ صورتحال میں حکومتی کردار کہیں نظر نہیں آتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مختلف پروگرامات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری استحکام کے لیے حکومت کو آگے بڑھ کر اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر ناقابل تلافی نقصان ہوسکتا ہے۔ ماضی میں بھی ایسی صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر جمہوری قوتیں اقتدار میں آتی رہی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ معاملات کا افہام و تفہیم اور اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے حل نکالا جائے۔ کسی نے اگر کوئی جرم کیا ہے کہ تو اس کو سزا ضرور ملنی چاہیے۔ خواہ وہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی یہ ہے کہ 72 برسوں سے ملک و قوم کو ایسی قیادت ہی میسر نہیں آسکی، جو صرف اور صرف ملک و قوم کے بارے میں سوچے۔ موجودہ حکمران بھی نااہل ترین ثابت ہوئے ہیں۔ عوامی مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ملک میں محب وطن قیادت سے اس خلا کو پُر کرے۔ عوام اپنے ووٹ کی طاقت کو پہچانیں اور بے داغ کردار کی حامل قیادت کو آگے لائیں۔ محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ پاکستان تاریخ کے نازک موڑ سے گزر رہا ہے۔ بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اس پر قبضہ جمالیا ہے۔ پاکستان کی شہ رگ کو کاٹنے کی سازش کررہا ہے اور بد قسمتی سے ہمارے حکمران آپس کے اختلافات کو بھلانے کو تیار نہیں۔ ادارے ایک دوسرے کے ساتھ تصادم کی راہ پر گامزن ہیں جبکہ ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ وفاقی وزرا کی جانب سے تندو تیز بیانات معاملے کو ہوا دے رہے ہیں۔ جج، جرنیل، سیاستدان اور دیگر با اثر افراد سب کا محاسبہ ضروری ہوگیا ہے۔ ملک میں حقیقی تبدیلی کے لیے فرسودہ نظام سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا۔
