لاہور/ راولپنڈی/ فیصل آباد/کراچی (نمائندہ جسارت / صباح نیوز / اسٹاف رپورٹر) منشیات برآمدگی کیس میں گرفتار سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ کو ضمانت پر جیل سے رہا کر دیا گیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے 2 روز قبل رانا ثنا اللہ کی درخواست ضمانت 10، 10 لاکھ روپے کے 2 مچلکوں کے عوض منظور کی تھی، تحریری فیصلہ گزشتہ روز جاری کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق رانا ثنا اللہ کی جانب سے مچلکے جمع کرانے کے بعد لیگی رہنما کو لاہور کی کیمپ جیل سے رہا کر دیا گیا، رانا ثنا اللہ 5 ماہ 25 دن بعد جیل سے رہا ہوئے۔ رہائی کے موقع پر رانا ثنا اللہ کی اہلیہ اور داماد سمیت لیگی کارکنان کی بڑی تعداد اظہار یکجہتی کے لیے جیل کے باہر پہنچی، جیل سے باہر آنے پر لیگی کارکنوں نے ان کے حق میں زبردست نعرے بازی کی اور ان کا والہانہ استقبال کیا، تاہم وہ میڈیا سے بات کیے بغیر اپنی فیملی کے ہمراہ روانہ ہو گئے۔ اس سے قبل لاہور ہائیکورٹ نے ضمانت سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ تحریری فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ رانا ثنا اللہ کے شریک ملزم کی ٹرائل کورٹ میں ضمانت ہو چکی ہے، استغاثہ نے شریک ملزموں کی ضمانت منظوری کو ہائیکورٹ میں چیلنج نہیں کیا، رانا ثنا اللہ پر 15 کلو ہیروئن رکھنے کا مقدمہ بنایا گیا لیکن ان کا جسمانی ریمانڈ ہی نہیں لیا گیا۔ بعد ازاں فیصل آباد میںپریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ عمران خان جانتے ہیں مجھ پر جھوٹا مقدمہ قائم کیا گیا، میں اپنا معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھاوںگا، ایک جھوٹے اور بے بنیاد مقدمے میں 6 ماہ عقوبت خانے میں رکھا گیا، 6 ماہ بعد ضمانت ہوئی تو میں اسے انصاف نہیں کہتا، جھوٹے مقدمے میں صعوبتیں برداشت کرنے پر مجاز اتھارٹی کو ایکشن لینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ جھوٹ کو سچ ثابت کرنا چاہتے تھے مگر ایسا نہیں ہو سکا، میں یکم جون کو فیصل آباد سے لاہور روانہ ہوا تھا اور راوی ٹول پلازہ پر میری گاڑی کو روک کر ڈرائیور کو نیچے اتارا گیا، جس کے بعد میری گاڑی کو اے این ایف ہیڈ کوارٹر لے جایا گیا، میں نے سیکورٹی اہلکاروں سے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے تو کہا گیا اوپر سے حکم آیا ہے اور مجھ پر الزام عاید کیا گیا کہ افغانستان سے فیصل آباد ہیروئن اسمگل کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مقدمے کے ذریعے میری اور پارٹی کی کردار کشی کی گئی، میرے پاس سے ہیروئن ملی تھی تو وہ کہاں گئی؟ عوام جسے ووٹ دے اسے تسلیم کرنا چاہیے کیونکہ سلیکٹڈ اور کٹھ پتلی سرکار ملک کو ترقی نہیں کرنے دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریار آفریدی نے پہلے وڈیو ثبوت کے دعوے کیے اور بعد میں مکر گئے، ہمارے ملک میں رواج ہے جھوٹ بول کر کہتے ہیں جان اللہ کو دینی ہے، میری اہلیہ کو تو نامعلوم نمبروں سے فون کالز بھی آتی رہیں، اگر اتنا بڑا نیٹ ورک تھا تواس کے دیگر لوگ کیوں نہیں پکڑے گئے؟ انہوں نے کہا کہ گھٹیا سیاسی انتقام کامیاب نہیں ہوگا، یہ مقدمہ جھوٹ اور فراڈ تھا، میری ساکھ کو خراب کرنے کے لیے یہ سارا ڈرامہ رچایا گیا، میں نے پوری زندگی میں ایک بار بھی ہیروئن استعمال نہیں کی، جن لوگوں نے یہ جھوٹا مقدمہ مجھ پر بنایا ان پر اللہ کا قہر نازل ہو اور اگر میں جھوٹ بول رہا ہوں تو مجھ پر اللہ کا قہر ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اپنی جماعت اور اپنے لیڈر میاں نواز شریف کے ساتھ کھڑا ہوں، اس قسم کے حربے اور سیاسی انتقام کامیاب نہیں ہوں گے، ہم اپنا سفر جاری رکھیں گے۔ مزید براں گزشتہ روز وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ انہوں نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور رانا ثنا اللہ کے کیس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، تفصیلی فیصلہ سامنے آنے کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کریں گے۔ دوسری جانب (ن) لیگ کے رہنما مفتاح اسماعیل کو بھی اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے 23 دسمبر کو ایل این جی کیس میں گرفتار لیگی رہنما کی ضمانت ایک کروڑ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی تھی۔ مفتاح اسماعیل کی جانب سے ایک کروڑ روپے کے مچلکے جمع کرائے جانے کے بعد احتساب عدالت نے سابق مشیر خزانہ کو ضمانت پر رہا کرنے کی روبکار جاری کی۔ مفتاح اسماعیل کا رہائی کے بعد کراچی ائرپورٹ پہنچنے پران کے اہل خانہ ولیگی کارکنوں نے استقبال کیا، کارکنوں نے نواز شریف کے حق میں اورنیب کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس موقع پر لیگی رہنما نہال ہاشمی سمیت کئی مسلم لیگی رہنما بھی موجود تھے۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہاکہ انہوں نے کوئی بدعنوانی نہیں کی، مسلم لیگ کی جانب سے دی جانے والی ذ مے داری کے ذریعے ملک کی خدمت کی ہے، عدلیہ کا شکرگزار ہوں جس نے انصاف کیا، موقع ملا تو دوبارہ قوم کی خدمت کے لیے تیار ہوں، جمہوریت کے لیے کردار ادا کرتا رہوں گا۔ اس موقع پر لیگی کارکنوں کی جانب سے ہونے والی ہلڑبازی سے ائرپورٹ پر بدنظمی پید اہوگئی، صحافیوں نے اپنے کیمرے احتجاجا ً بندکردیے جس کی وجہ سے مفتاح اسماعیل مزید بات چیت کیے بغیر گھر کے لیے روانہ ہوگئے۔
