نیو یارک (انٹرنیشنل ڈیسک) انٹرنیٹ پر جرائم کے انسداد کے لیے اقوام متحدہ میں ایک قرارداد منظور کر لی گئی ہے لیکن امریکا اور یورپی یونین اس مسودے کے خلاف ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ عالمی تنظیم کے ذیلی ادارے پہلے ہی اس حوالے سے متحرک ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منظور کی جانے والی قرارداد کے تحت سائبر کرائمز کے انسداد کے لیے ایک بین الاقوامی معاہدہ طے کیا جائے گا۔ 193 رکنی جنرل اسمبلی کے 69 اراکین نے قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالا، جب کہ 60 نے اس کی مخالفت کی اور 33 نے اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کیا۔ جنرل اسمبلی میں منظور ہونے والی اس قرارداد کا مسودہ روس نے تیار کیا تھا، جس کے تحت دنیا کے تمام خطوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ کمیٹی کا اولین اجلاس آیندہ برس اگست میں متوقع ہے۔ جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے لیے نائب امریکی سفیر شرتھ نورمن نے کہا کہ قرارداد اپنے موضوع سے متعلق پہلے سے جاری کوششوں کو متاثر کرے گی۔ دوسری جانب فن لینڈ کے نمایندے نے یورپی یونین کا موقف بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اقوام متحدہ کا مختلف حکومتوں کے ماہرین پر مشتمل گروپ پہلے ہی اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ سائبر کرائمز کے انسداد کے لیے کوئی نیا گروپ یا معاہدہ درکار ہے یا نہیں۔
