اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اپنا نصاب بناتے ہیں تو اس میں اشرافیہ کو کیا مسئلہ ہے
ریاست نے طلبہ تنظیموں پر پابندی لگائی ، ٹریڈ یونین اور کافی ہاؤس کلچر ختم کیا، تقریب سے خطاب
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سینیٹ کے سابق چیئرمین سینیٹر رضا ربانی نے کہا ہے کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت صوبائی خودمختاری کو ختم کیا گیا ،جمہوریت کو موڑ توڑ کرنے کی کشمکش چلتی رہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز کراچی آرٹس کانسل میں منعقدہ ڈاکٹر ریاض شیخ کی کتاب سحر ہونے تک کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔رضا ربانی نے کہا کہ میں ڈاکٹر ریاض شیخ کو مبارکباد دیتا ہوں ،تاریخ کو محفوظ کرنے میں ڈاکٹر ریاض کی کوشش قابل ستائش ہے ، آج کے نصاب میں جمہوریت کا باب نہیں ہے ، ریاست نے طلبہ تنظیموں پر پابندی لگائی ، ٹریڈ یونین اور کافی ہاؤس کلچر ختم کیا، اشرافیہ نے عوام کے وسائل کھائے اور ملک کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا۔اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اپنا نصاب بناتے ہیں تو اس میں اشرافیہ کو کیا مسئلہ ہے۔تقریب میں ڈاکٹر توصیف احمد ،زبیدہ مصطفی ،سہیل سانگی،ڈاکٹر سرفراز ، ڈاکٹر ہارون احمد اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر ایوب شیخ نے کتاب کاتنقیدی جائزہ پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ کتاب میں طلبا تحریک کے پانچ سال کی جدوجہد کی منظر کشی کی گئی ہے۔تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر توصیف احمد خان نے انجام دئیے۔

