لاہور: سنٹرل کنٹریکٹ یافتہ قومی کھلاڑیوں کےفٹنس ٹیسٹ آئندہ ہفتے ہوں گے،ٹیسٹ کا چوتھا مرحلہ 6 اور 7 جنوری کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں منعقد ہوگا۔
فٹنس ٹیسٹ قومی کرکٹرز کے سنٹرل کنٹریکٹ کا حصہ ہیں لہٰذا سنٹرل کنٹریکٹ کے حامل تمام دستیاب کھلاڑی دو روزہ فٹنس ٹیسٹ میں شرکت کریں گے۔
بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں مصروف 3 کرکٹرز محمد عامر، وہاب ریاض اور شاداب خان ابتدائی طور پر فٹنس ٹیسٹ میں شرکت نہیں کریں گے، جس کے باعث تینوں کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ 20 اور 21 جنوری کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں کیے جائیں گے۔
دیگر کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ کی نگرانی قومی کرکٹ ٹیم کے اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشنگ کوچ یاسر ملک کریں گے۔ ہر کھلاڑی کا فٹنس ٹیسٹ پانچ حصوں پر مشتمل ہوگا جن میں فیٹ اینالسز، اسٹرینتھ، اینڈیورنس، اسپیڈ اینڈیورنس اور کراس فٹ شامل ہیں۔
اس دوران مطلوبہ معیار حاصل نہ کرنے والے کھلاڑی پر ماہانہ ریٹینر شپ کا 15 فیصد جرمانہ عائد کردیا جائےگا۔ یہ جرمانہ اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک وہ فٹنس کےطے کردہ کم سے کم معیار کو حاصل نہیں کرلیتا۔
اسی طرح فٹنس ٹیسٹ میں مسلسل ناکامی کی صورت میں اس کرکٹر کا سنٹرل کنٹریکٹ برقرار رکھنا بھی خطرے میں پڑ جائے گا کیونکہ مقرر کردہ معیار حاصل کرنے میں مسلسل ناکامی پر مذکورہ کھلاڑی کو سنٹرل کنٹریکٹ کی کٹیگری میں تنزلی کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔
ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ پی سی بی ذاکر خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ( پی سی بی )قومی کھلاڑیوں کی فٹنس کا مسلسل جائزہ لینے پر ہمیشہ زور دیتا ہے اس لیے اس مرتبہ فٹنس کا مطلوبہ معیار حاصل نہ کرنے والے کھلاڑیوں پر جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مقصد قومی کھلاڑیوں میں فٹنس کے بہترین معیار میں تسلسل برقرار رکھنا ہے۔
ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ پی سی بی نے کہا کہ سنٹرل کنٹریکٹ میں شامل تمام کھلاڑیوں کو گزشتہ ماہ فٹنس کے مطلوبہ معیار کے بارے میں بتادیا گیا تھا۔پی سی بی تمام کھلاڑیوں کو مطلوبہ معیار کے حصول میں ناکامی کی صورت میں جرمانوں کے بارے میں بھی آگاہ کرچکا ہے۔
ذاکر خان نے بتایا کہ یہ فٹنس ٹیسٹ صرف سنٹرل کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ چھ کرکٹ ایسوسی ایشنز میں شامل کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ بھی مستقل بنیادوں پر لیے جائیں گے تاکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں مصروف کھلاڑیوں کی فٹنس کا بھی مسلسل جائزہ لیا جاسکے۔
تاہم فٹنس ٹیسٹ میں ناکامی کی صورت میں کھلاڑی کو پاکستان کپ ایک روزہ کرکٹ ٹورنامنٹ میں شرکت خطرے میں پڑجائے گی۔
کٹیگری اے: بابر اعظم،سرفراز احمد اور یاسر شاہ شامل ہیں۔
کٹیگری بی: اسد شفیق ، اظہرعلی، حارث سہیل، امام الحق، محمد عباس، شاداب خان اور شاہین شاہ آفریدی شامل ہیں۔
کٹیگری سی: عابد علی، حسن علی، فخر زمان، عماد وسیم ، محمد عامر، محمد رضوان، شان مسعود ،عثمان شنواری اور وہاب ریاض شامل ہیں۔

