ہندوستان کی جنوبی ریاست کیرالہ کے شہر کوچین میں لاکھوں افراد نے ریلی میں شرکت کرکے شہریت ترمیمی ایکٹ کو مسترد کردیا
دہلی کے مختلف علاقوں میں عوام اور طلباء کے مظاہرے جاری ہیں، آسام میں بھی حکومت مخالف رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں
نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کے خلاف ملک کی مختلف ریاستوں اور علاقوں میں عوام کے احتجاجی مظاہرے اور جلسے جاری ہیں، بھارت ٹکڑے ہونے والا ہے، بھارت کی جنوبی ریاست کیرالہ کے شہر کوچین میں لاکھوں لوگوں نے ایک ریلی میں شرکت کرکے شہریت ترمیمی ایکٹ، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کی پرزور الفاظ میں مخالفت کی اور اس بات کا اعلان کیا کہ وہ آئین کی روح سے کسی کو بھی کھلواڑ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ کوچین میں مختلف ملی اور مذہبی تنظیموں کے متحدہ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کیرالہ مسلم لیگ کے صدر سید حیدر علی شہاب نے کہاکہ بھارت کسی ایک کا نہیں بلکہ جو یہاں پیدا ہوا ہے اس ملک میں اس کی موت اور زندگی کے لیے بنیادی حقوق ہیں۔ انہوں نے کہاکہ غیر آئینی قانون کی آڑ میں کسی کے ساتھ ناانصافی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ لاکھوں کے جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کے مفتی اعلیٰ شیخ ابوبکر احمد نے بھی کہا کہ ہم پرامن طور پر قانون کے دائرے میں رہ کر جمہوری طریقے سے اس ایکٹ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ادھر قومی دارالحکومت دہلی کے مختلف علاقوں منجملہ کالندی کنج، متھرا روڈ، شاہین باغ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر عوام اور طلبہ کے مظاہرے جاری ہیں۔ ادھر مظاہروں میں شریک اداکارہ سویرا بھاسکر کہتی ہیں کہ بی جے پی نے ملک میں یہ آگ خود لگائی ہے اس کے علاوہ شمال مشرقی ریاستوں خاص طور پر آسام میں سی اے اے کے خلاف طلبہ اور عوام کے احتجاجی مظاہرے رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔

