
تہران (خبرایجنسیاں+مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی آخری رسومات کے دوران بھگدڑ مچ جانے سے 50 افراد ہلاک اور215زخمی ہیں۔زخمیوں میں سے متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے جس سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے ۔ایران کے سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق واقعہ مقتول سلیمانی کے آبائی شہر کرمان میں پیش آیا ۔سلیمانی کی آخری رسومات میں میں شرکت کے لیے ایران بھر سے لاکھوں افراد کرمان پہنچے تھے۔ شرکاء نے سیاہ لباس پہنے ہوئے آئے اورانہوں نے ایرانی پرچم اور قاسم سلیمانی کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں ‘ وہ مرگ بر امریکا یا امریکا مردہ باد اور ٹرمپ مردہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔اس کے ساتھ اسرائیل مخالف نعرے بازی بھی جاری رکھے ہوئے تھے۔عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ ہزارہا افراد ایرانی پرچم میں لپٹے جنرل سلیمانی کے تابوت کے ارد گرد جمع تھے کہ وہاں اچانک بھگدڑ مچ گئی۔ شرکا کی تعداد انتہائی زیادہ ہونے کی وجہ سے تابوت کو جس گاڑی پر رکھا گیا ہے، وہ انتہائی سست رفتاری سے ان کی تدفین کے مقام کی جانب رواں دواں تھی تاحال یہ واضح نہیں کہ بھگدڑ کیوں اور کیسے مچی ۔اس واقعے کے بعد سلیمانی کی تدفین کا عمل بھی ملتوی کر دیا گیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان رمضان شریف نے کہا ہے کہ اب تدفین کسی اور دن ہوگی تاکہ شہدا کو عزت و توقیر کے ساتھ دفنایا جا سکے۔ کرمان پولیس کے ڈائریکٹر جنرل حامد شمس الدین نے ان افواہوں کو مسترد کیا ہے کہ جلوس میں دہشت گردی کی کوئی کارروائی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ جنازے میں دہشت گردی کی کارروائی کی افواہ نظام کے دشمنوں کی سازش ہے۔دریں اثناء سیکرٹری ایرانی قومی سلامتی کونسل علی شامخانی کا کہنا ہے کہ ایران امریکا سے بدلہ لینے کے لیے 13 مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کمزور ترین آپریشن بھی امریکا کے لیے ڈراؤنا خواب ہو گا، ایران کے قریب موجود 19 امریکی فوجی اڈے ہائی الرٹ ہیں، ایران کو ان کے اسلحے کی کیفیت بخوبی معلوم ہے، معمولی سی تبدیلی پر بھی نظر ہے۔کرمان میں جنازے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل حسین سلامی نے کہا کہ ایران قاسم سلیمانی کی موت کا بدلہ ان مقامات کو جلا کر لے گا جو امریکیوں کو بہت پسند ہیں،ہم جانتے ہیں کہ وہ مقامات کہاں ہیں۔علاوہ ازیں ایران نے 2015ء کے عالمی جوہری معاہدے سے بھی دستبردار ہو کر یورینیم کی افزودگی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ جوہری مذاکرات کی مزید پاسداری نہیں کی جائے گی تاہم اقوام متحدہ کی عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے ) کے ساتھ تعاون جاری رکھا جائے گا اور معاہدے کے ثمرات سے فائدہ حاصل کرنے کے بعداپنی ذمے داری پوری کرنے کوتیارہیں۔علاوہ ازیں غیرملکی نشریاتی ادروں کو انٹرویودیتے ہوئے ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ ایران جائز اہداف کے خلاف ہی کارروائی کرے گا،ہماراکا کوئی اقدام غیر موزوں نہیں ہوگا ، قانونی اہداف کے بارے میں عالمی جنگی قانون بہت واضح ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا نے ایسا راستہ اختیار کیا ہے جس کے سنگین نتائج ہوں گے،ثقافتی ورثے پر حملے کی امریکی دھمکی جنگی جرم ہے۔
