
طرابلس (مانیٹرنگ ڈیسک) لیبیا میں اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ قومی وفاقی حکومت کی فوج نے اہم ساحلی شہر سرت سے انخلا کردیا ہے، جس کے بعد متحدہ عرب امارات، مصر، فرانس اور روس کے حمایت یافتہ باغی جنرل خلیفہ حفتر کی ملیشیا نے شہر پر قبضہ کرلیا ہے۔ مشرقی شہر بنغازی میں حفتر ملیشیا کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اپنی اس کامیابی کا اعلان کیا۔ ترجمان احمد مسماری نے کہا کہ ان کی فوج نے بڑی تیزی سے شہر فتح کیا اور اس آپریشن میں محض 3 گھنٹے لگے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی فوج نے زمینی اور سمندری راستوں سے شہر پر چڑھائی کی، اور اس دوران انہیں فضائی مدد بھی حاصل رہی۔ تاہم سرکاری فوج کے ترجمان طہ حدید نے منگل کے روز کہا کہ مختلف شہریوں کے جنگجوؤں کے شہر پر حملے کے بعد ہم نے عوام کے جان ومال کو مدنظر رکھتے ہوئے اور کمک پہنچنے کے انتظار میں سرت سے جزوی انخلا کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انخلا کی کارروائی میں فوج کو کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ فوج نے شہرسے باہر مورچے سنبھال کر جنگ کی تیاری شروع کردی ہے۔ واضح رہے کہ دارالحکومت طرابلس سے 450کلومیٹر دور واقع سرت شہر پر کئی برس سے قومی وفاقی حکومت کی حامی قوتوں کا کنٹرول تھا۔ سرت لیبیا کے سابق حکمران کرنل قذافی کا آبائی شہر ہے، جنہیں 2011ء میں حکومت مخالف ملیشیاؤں نے نیٹو افواج کی مدد سے اقتدار سے اتار کر قتل کر دیا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سرت کا کنٹرول جنرل حفتر کی اہم کامیابی ہے۔ باغی جنرل حفتر نے دسمبر میں اعلان کیا تھا کہ ان کی فوجی پیش قدمی کا ہدف دارالحکومت طرابلس ہے۔ حالیہ کشیدگی کی وجہ ترکی اور لیبیا کی قومی حکومت کے درمیان بحیرہ روم میں گیس اور تیل نکالنے کے ساتھ دفاعی اور تعاون کا گزشتہ ماہ طے پانے والا معاہدہ ہے۔
