English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

فرنیچر کے تاجروں نے کاروبار بند کرنے کی دھمکی دیدی

ریٹیلرز کو ایک ہزار اسکوائر فٹ کی بنیاد پر سیلز ٹیکس کی رجسٹریشن سے مستثنیٰ قرار دیا جائے‘ زاہد حسین
حکومت اور ایف بی آر نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے‘ کراچی کی مارکیٹوں کے عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس
کراچی ( کامرس رپورٹر) آل پاکستان فرنیچرایسوسی ایشن نے ملک بھر میں کاروبار بند کی دھمکی دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان اور ایف بی آر کے چیئرمین شبرزیدی سے مطالبہ کیاہے فرنیچر ریٹیلرز کو 1000 اسکوائرفٹ کی بنیاد پر سیلز ٹیکس کی رجسٹریشن سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ ایف بی آرکی جانب سے فرنیچر ریٹیلرز کو سیلزٹیکس کے نوٹسز بھجواناحکومت اور فرنیچر ایسوسی ایشن کے درمیان ہونے والے معاہدہ کی سنگین خلاف ورزی ہے کراچی پریس کلب میں آل پاکستان فرنیچرایسوسی ایشن کے چیئرمین زاہد حسین نے کراچی کی تمام فرنیچر مارکیٹوں عہدیداروں مرزاصادق بیگ‘زاہد محمود‘ملک احسان الٰہی ‘رانا وحید ‘سردار مقبول الزماں‘عبدالحسیب‘ایم حنیف خان ودیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 1000 اسکوائر فٹ کی بنیاد پر سیلزٹیکس فرنیچر ریٹیلرز سے لینا سر اسر زیادتی ہے ہماری دکانوں پر ڈسپلے کا سامان 1000 اسکوائر سے کئی گنا زیادہ ایریا پر رکھا ہوتا ہے حکومت نے جومعاہدہ ہم سے کیا ہے اس پر عملدرآمد کے بجائے ایف بی آر نے فرنیچر مارکیٹوں کے دوکانداروں کو نوٹسز بھجوانے۔ہم نے جب ان رابطہ کیا تو ایف بی آر حکام کسی بھی معاہدے کوماننے سے انکار کیا۔ چیئرمین ایف بی آر اپنے اہلکاروں کو لگام دیں۔ہم اپنے مطالبات کیلئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ہم اپنا کاروبار بند کرکے کارخانو ں تالے لگادیں گے جس سے فرنیچر کی صنعت سے وابستہ ہزاروں افراد بے روزگار ہوجائیں گے ہمارا مطالبہ ہے کہ فرنیچر کے ایکسپوٹ کو بڑھانے اقدامات کیجائیں ہنگامی بنیادوں پر ایکسپوٹ کمیٹی بنائی جائے جس میں فرنیچر کی اصل اسیٹک ہولڈرز کو شامل کیا جائے فرنیچر ایکسپوٹ 18ملین روپے سے کم ہوکر 7 ملین روپے پہنچ چکی ہے چینوٹ سیمت ملک بھر بڑے شہروں میں فرنیچر سٹی قائم کی جائے۔ فرنیچرسے وابستہ ہنرمندوں کو جدید طرز کی تربیت دینے کے لئے انسٹیٹیوٹ قائم کی جائے۔فرنیچر کے خام مال کی درآمد پر ڈیوٹی کم کی جائے۔بیرونی ممالک نمائشوں میں پاکستانی فرنیچر بنانے کو زیادہ شمولیت کے موقع فراہم کئے جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے