نئی دہلی (آن لائن) بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت نے دہشت گردی کے خلاف عالمی اقدام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہہمیں دہشت گردوں کو تنہا کرنا ہو گا اور ایسے ملک جو دہشت گردی کے خلاف عا لمی جنگ کا حصہ نہیں بن رہے انہیں عالمی سطح پر ایک سخت پیغام دیا جانا چاہیے جس میں ان کیلیے سفارتی تنہائی بہترین ہتھیار ہے۔ یہ صرف پاکستان کے لیے ہی نہیں بلکہ ایسے تمام ممالک کیلیے ہونا چاہیے جو اس کی معاونت کرتے ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی کی روک تھام کے لیے امریکا کی افغانستان میں موجودگی کو بھی ناگزیر قرار دیا۔ بھارتی خبررساں ادارے کے مطابق ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اس وقت تک موجود رہے گی جب تک اس کے معاون ممالک ہیں۔ بھارت دہشت گردی کی لعنت کے جڑ سے خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھے گا۔ دہشت گردی کو ختم کرنے کیلیے ہمیں وہی طریقہ اپنانا ہوگا جو 9/11 کے بعد امریکا نے اپنایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتی جب تک کچھ ممالک دہشت گردوں کی فنڈنگ نہیں روکتے اس کے لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری مل کر اس سے نمٹے اور ان ممالک کے خلاف کارروائی عمل میں لائے۔
پاکستان سمیت دہشتگردی کے معاون ممالک کو تنہا کرنا ہوگا، بپن راوت
القمر
