English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

آٹا کسی اور نے نہیں سندھ حکومت نے غائب کیاحلیم عادل شیخ ٗ فردوس شمیم نقوی

سندھ میں بہت سارے میراثی بانسریاں بجانا شروع ہوگئے ہیں، آٹے بحران کا ذمہ دار وفاقی حکومت کو ٹہرایا جارہا ہے
پاسکو کے گودام سے چار لاکھ ٹن گندم سندھ حکومت کو دی گئی لیکن صرف ایک لاکھ ٹن اٹھائی گئی،مشترکہ پریس کانفرنس
کراچی(اسٹاف رپورٹر)انصاف ہائوس کراچی میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی کے مرکزی نائب صدر و سندھاسمبلی میں پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ، سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی، پی ٹئی آئی مرکزی رہنما اشرف قریشی، کراچی ڈویزن کے صدر خرم شیر زمان، حنید لاکھانی، ایم این اے آفتاب جہانگیر، ایم این اے کیپٹن جمیل احمد،اور دیگر شریک۔ میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ نے کہا ہم دو چار روز سے دیکھ رہے ہیں سندھ میں بہت سارے میراثی بانسریاں بجانا شروع ہوگئے ہیں کہ آٹے کے بحران کا ذمہ دار وفاقی حکومت کو ٹہرایا جارہا ہے۔ آج پردا اٹھانا چاہتے ہیں سندھ حکومت کا مکروہ چہرہ جنہوں نے کرپشن کی اور پیسے کھاگئے کہتے ہو تبدیلی سرکار کی زمہ داری ہے، فیڈرل گورنمنٹ کے پاسکو کے گودام سے چار لاکھ ٹن گندم سندھ حکومت کو دی گئی لیکن ایک لاکھ ٹن اٹھائی گئی باقی نہیں اٹھائی پاسکو کے گودام لاھور یا کے پی کے میں نہیں ہیں۔ پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کے وزرا نے ہر چیز میں پیسے کھائے آٹے اور گندم میں بھی کرپشن کی، آٹا کسی اور نے نہیں ان کے اپنی پارٹی نے غائب کیا 18 ویں ترمیم میں فوڈ کا محکمہ سندھ حکومت کے پاس ہے، امید ہے بلاول کا کوئی میراسی جواب دے گا انہوں نے خود دعوا کیا تھا کہ 8 لاکھ ٹن گندم گداموں میں پڑی ہے۔ 8 لاکھ ٹن ان لوگوں نے ادھار پر بیچ دی جس کا کوئی حساب نہیں ملا۔ اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی کا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا سیاست میں گرمی سے زیادہ سندھ میں کرپشن میں گرمی بڑھتی جارہی ہے ہم عوام کے سامنے حقائق لانا چاہتے ہیں سندھ حکومت گڈ گورننس اور ٹرانسپیرسی کی باتیں کرتی ہے پچھلے دنوں سے ایم کیو ایم کے مسائل چک رہے تھے اور سندھ دو وزرا کے رپورٹ آئی میڈیا رپورٹس میں میں لکھا گیا ہے کہ سندھ میں آٹے کئی قلت میں سندھ حکومت کا فوڈ ڈیپارٹمنٹ شامل ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے