ایرانی جیل میں قید میلبرن یونیورسٹی کی خاتون پروفیسر نے رہائی کے بدلے جاسوسی کی پیشکش مسترد کردی۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایرانی جیل میں قید برطانوی نژاد آسٹریلین پروفیسر ڈاکٹر کیلی مور گلبرٹ نے جیل حکام کو ایک خط لکھا تھا جو خفیہ طریقے سے برطانوی اخبار تک جا پہنچا، جسے انہوں نے اخبار میں شائع کردیا، پروفیسر نے خط میں اپنے کیس مینجرکو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں جاسوس نہیں تھی اور میں نے کبھی بھی کسی ملک یا تنظیم کے لیے جاسوسی نہیں کی اور نہ ہی مجھے جاسوسی کرنے میں کوئی دلچسپی ہے۔
انہوں نے اپنے خط میں لکھا کہ میرے اس خط کو پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس برانچ کی طرف سے جاسوسی کرنے کی پیش کش کے جواب میں قطعی طور پر انکار سمجھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی قید سے نکل کر ایک آزاد عورت بن کر ایک آزاد زندگی گزارنا چاہتی ہوں، میں دھونس اور دھمکیوں کے سائے میں زندگی بسر نہیں کرنا چاہتی۔
کیلی مور مشرق وسطی امور کی ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ میلبورن یونیورسٹی میں اسلامی علوم کی پروفیسر بھی ہیں،پروفیسر کیلی مور گلبرٹ 2018سے تہران کے شمال میں واقع اوین جیل میں جاسوسی کے الزام میں دس برس قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔

